مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 61
میں جو وید میں درج ہوں، دو تین جز بمقابلہ فرقان مجید لکھ کر دکھا دے۔یا خدا کی خالقیت سے عاجز ہونے پر یا نجات ابدی دینے سے عاجز ہونے پر۔بمقابلہ ہمارے دلائل کے وید سے دلائل نکال کر لکھے اور پانسو روپیہ فی الفور ہم سے لے لے۔اور وہ جو کہتا ہے کہ فرقان مجید توریت و انجیل سے نکالا گیا ہے تو اُس کو چاہئے کہ اگر وید سے کام نہیں بنتا تو توریت و انجیل سے مدد لے اور اگر توریت یا انجیل وہ دلائل جو فرقان مجید پیش کرتا ہے پیش کر دیں گے تو ہم تب بھی کھڑک سنگھ کو پانسو روپیہ نقد دیں گے ایک ٹونبو تعدادی پانسوروپیہ بھی لکھ کر ہم بھیج دیتے ہیں۔لیکن اگر اس کے جواب میں خاموش رہے اور کچھ غیرت اور شرم اُس کو نہ آوے تو معلوم کرنا چاہئے کہ بڑا بے حیا اور بے شرم ہے کہ ایسی پاک اور مقدس کتاب کی ہتک کرتا ہے کہ جس کی ثانی حکمت اور فلسفہ میں اور کوئی کتاب نہیں۔تین ماہ سے بنام اُس کے بوعدہ انعام پانسو روپیہ ہمارا مضمون چھپ رہا ہے۔اُس نے آج تک کون سے دلائل وید کے پیش کرے۔شرم چہ کتی است کہ پیش مرداں بیاید۔اور پہلی نشانی جو ہم نے عنوان اس مضمون میں لکھی ہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ فرقان مجید اپنے احکام میں سب کتابوں سے کامل تر ہے اور ہماری موجودہ حالت کے عین مطابق ہے اور جس قدر فرقان مجید میں احکام ہدایت حسب حالت موجودہ دنیا کے مندرج ہیں کسی اور کتاب میں ہرگز نہیں۔اگر کھڑک سنگھ وید، توریت، انجیل میں یہ سب احکام نکال دیں تو اس پر بھی ہم پانسو روپیہ دینے کی شرط کرتے ہیں۔اگر کچھ شرم ہوگی تو ضرور بمقابلہ اُس کے وید سے بحوالہ پتہ و نشان لکھے گا۔ورنہ خود یہ لڑکے جن کو یہ بہکا رہا ہے سمجھ جائیں گے کہ یہ جھوٹا ہے۔کون منصف اس عذر کو سن سکتا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ تمہارا وید محض ناقص ہے۔تم یہ احکام وید سے نکال دو اگر ناقص نہیں۔تم یہ جواب دیتے ہو’’ ہمیں فرصت نہیں۔وید یہاں موجود نہیں۔‘‘ بھلا یہ کیا جواب ہے؟ اس جواب سے تو تم جھوٹے ٹھہرتے ہو۔جس حالت میں ہم پانسو روپیہ نقد دینا کرتے ہیں ٹونبو لکھ دیتے ہیں، رجسٹری کرا دیتے ہیں تو پھر تمہارا وید بھی اگر کچھ چیز ہے تو کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔دس بیس دن کی مہلت لے لو۔دیانند کو اپنا مددگار بنا لو۔ہم کو وہ احکام نکال دو جو ہم نیچے فرقان مجید سے نکال کر لکھیں گے یا یہ اقرار کرو کہ یہ احکام ہمارے نزدیک ناجائز ہیں۔تب پھر اُن کے ناجائز ہونے کا نمبر وار وید سے حوالہ دو۔غرض تم ہمارے ہاتھ سے کہاں بھاگ سکتے ہو اور یہ جو تم محض شرارت سے بارادہ توہین حضرت خاتم الانبیاء کی نسبت بدزبانی کرتے ہو، یہ محض تمہاری بداصلی ہے۔اپنے پرچہ میں بھی تم نے ایسی ایسی اہانت