مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page viii
A پھر آپ ایک ایک خط کو کھولتے اسے پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ہی راقم الحروف کے مقاصد کے لئے دعا بھی فرماتے جاتے ۔ تمام خطوط پڑھ چکنے کے بعد کا تب الخطوط کے حوالے اُس وقت فرماتے جب آپ نماز ظہر میں تشریف لاتے اور اور جن ایام میں ڈاک ظہر کے بعد آتی تھی تو تو عصر کے بعد دیتے ۔ چونکہ خطوط کا پلندہ آپ کے رومال سے بندھا ہوا جیب میں ہوتا تھا تو نماز میں بھی دعا فرماتے ۔ وہ خطوط جب محکمہ ڈاک میں جاتے تو مغرب کی نماز سے پہلے ایک فہرست اسم وار دعا کرانے والوں کی ان خطوط کی بنا پر تیار ہوتی ۔ یا اگر کسی نے کوئی درخواست دستی دی ہوتی تو اس کا نام بھی اس فہرست میں درج ہوتا۔ اس طرح پر وہ فہرست پھر حضرت کی دعا کی محرک ہوتی اور آپ ان کے لئے پھر اپنی مخصوص عبادت کی گھڑیوں میں دعا فرماتے ۔ ان خطوط کے جواب میں لکھا جاتا کہ دعا کی گئی ہے۔ خطوط خطوط کے جواب میں جب حضرت خود اپنے ہاتھ سے لکھتے تو آپ کا معمول تھا کہ عام طور پر اپنے دوستوں کو حسی فی الله اخویم اور مکرمی فلاں سے خطاب فرمایا کرتے خواہ کوئی شخص عرف عام کے لحاظ سے کتنے ہی چھوٹے درجے کا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن کو بھی ہمیشہ اکرام و احترام کے الفاظ سے یاد فرمایا کرتے تھے ۔ آپ کی عادت میں تھا ہی نہیں کہ کسی کا صرف نام لکھا کریں بلکہ کوئی تعظیمی لفظ شامل کر لیا کرتے تھے اور جمع کا صیغہ بغرض تعظیم استعمال فرماتے ۔ یہ تمام امور آپ کے مکتوبات میں نمایاں ہیں جن کی کچھ جلدیں میں شائع کر چکا ہوں اور کچھ الحکم میں شائع ہو رہے ہیں اور یہ تو میں تحدیث بالنعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ مکتوبات کے مخفی خزانے کو شائع کرنے کی سعادت مجھے ہی ملی ۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - میں اس مضمون کو ختم کرتے ہوئے دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ جو اس مضمون کو پڑھے اگر اس کے پاس یا اس کے کسی دوست کے پاس حضرت مسیح موعود کا کوئی مکتوب ہو تو اس کی اصل یا نقل برے پاس بھیج دیں تا کہ اُسے میں شائع کر دوں اور اس طرح پر ہم دونوں اجر عظیم کے مستحق ہونگے“ ۔ ( الحکم ۲۱ فروری ۱۹۳۴ ء صفحہ ۶ )