مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 57
مکتوب نمبر ۱۱ خط بنا م اِندر من مراد آبادی اندر من مراد آبادی نے دعوت یکسالہ کیلئے چوبیس سَو روپیہ مانگا تھا جو مسلمانوں کے ایک معزز ڈیپوٹیشن کے ہاتھ بھیجا گیا اور یہ خط ساتھ لکھا گیا مگر اندرمن کہیں بھاگ گیا۔آخر یہ خط شائع کیا گیا۔(ایڈیٹر) نقل اشتہار منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوع خط (جس کی ایک ایک کاپی غیرمذاہب کے استاد و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھاکہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو اور زر موجود اشتہار پیشگی بنک میں داخل کردو۔وغیرہ وغیرہ۔اس کے جواب میں خاکسار نے رقیمہ ذیل معہ دو ہزار چار سَو روپیہ نقد ایک جماعت اہل اسلام کے ذریعہ سے ان کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود میں پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام خط روانہ کیا تھا۔اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔باوجودیکہ اُس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریر کیا تھا۔یہ امر نہایت تعجب اور تردّد کا موجب ہوا۔لہٰذا یہ قرار پایا کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے اور اُس کی ایک کاپی منشی صاحب کے نام حسب نشان مکان موجود بذریعہ رجسٹری روانہ کی جاوے۔وہ یہ ہے۔مشفقی اِندر من صاحب! آپ نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ایک نئی بات لکھی ہے۔جس کی اجابت مجھ کو اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے۔میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرا دے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔آپ اُس کے جواب میں