مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vii of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page vii

بصیرت کو بڑھایا کرتے تھے۔ یہ خطوط کبھی لاہور حضرت منشی تاج دین صاحب رضی اللہ عنہ کے نام پر ہوتے اور انہیں ہدایت ہوتی کہ پڑھ کر اور دوستوں کو سنا کر سیالکوٹ بھیج دیں یا کبھی حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کے نام ہوتے اور اسی طرح انہیں ہدایت دی جاتی ۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خطوط نویسی کے اہم راز کو معلوم کر لیا تھا جوان کی ایمانی بصیرت اور معرفت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست تعلقات بڑھانے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔ اس لئے انہوں نے جماعت کے قلوب میں یہ حقیقت پیدا کر دی تھی کہ لوگ کثرت سے خطوط لکھیں اور بار بار لکھیں ۔ چونکہ دعا کے خطوط اکثر آتے تھے اس لئے حضرت مولوی عبدالکریم دعا کرانے کے طریقوں پر بھی اپنے خطوط میں بحث کر جاتے تھے۔ پھر اس طریق کو اور بھی آپ نے وسیع کر دیا کہ ہفتہ وار ایک چٹھی الحکم کے ذریعہ شائع کرتے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد یہ کام حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب کے سپرد ہوا ۔ مفتی صاحب پہلے بھی کبھی کبھار یہ خدمت انجام دیتے تھے ۔ مگر حضرت مخدوم الملۃ کے بعد کلیہ ان کے سپرد یہ کام کر دیا گیا اور حضرت کی زندگی کے آخری وقت تک ان کے سپر د رہا۔ خطوط کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ معمول تھا جس پر اب تک جب کہ سلسلہ کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے اور خطوط کی تعداد بھی بے حد بڑھ گئی ہے اور بعض اوقات حضرت المسر خليفة المسح ایدہ اللہ بنصرہ کی صحت کا اقتضا بھی یہی ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص پڑھ کر خلاصے پیش کرے۔ مگر جو سنت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی تھی اُسی پر عمل ہو رہا ہے اور وہ یہ تھی کہ آپ تمام خطوط کو خود پڑھا کرتے تھے۔ خطوں کو کھولنے اور پڑھنے سے پیشتر جب ڈاک کا بنڈل آپ کے دست مبارک تک پہنچتا تو اجمالی طور پر تمام خطوط کو سامنے رکھ کر دعا کر لیتے کہ جن مقاصد اور اغراض کے لئے دوستوں نے لکھا ہے اللہ تعالیٰ ان دوستوں کو ان مقاصد میں با مراد کرے۔ الفاظ کیا ہوتے تھے وہ میں نہیں کہہ سکتا مگر مفہوم یہ ہی ہوتا تھا ۔ اس لئے بار ہا آپ نے اپنی مجالس میں فرمایا کہ جب خطوط آتے ہیں تو میری عادت ہے کہ میں سب کے لئے دعا کر لیتا ہوں ۔