مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 675
مکتوبات احمد ۶۷۵ جلد اول لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان دنیا میں آکر بہت سے غم وہم اٹھاتا ہے اور بہت کچھ اپنے نفس کیلئے چاہتا ہے مگر ملتا نہیں ۔ بارہا اپنے مطالب سے نا کام اور نامراد رہتا ہے اگر اس کو خدائی میں کچھ حصہ ہوتا تو یہ عجز اور نامرادی کی حالتیں کیوں اس کو پیش آتیں ۔ انسان کی مخلوقیت تو ایک یقینی امر ہے جس کے لوازم ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جس کا خمیازہ ہر ایک شخص اُٹھا رہا ہے مگر اس کے خالق ہونے کی علامات کہاں ہیں ۔ انسان کیسے کیسے لا علاج مصیبتوں اور دردوں ۔ اور دکھوں میں پڑتا ہے اور فاقہ اور محتاجی میں کباب ہوتا اور جلتا ہے ۔ اور پھر ہر ایک قسم کی معصیت اور کبائر اور صغائر میں بھی مبتلا ہوتا ہے اب کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ یہ تمام نقصان خدا تعالیٰ پر عائد ہو سکتے ہیں ۔ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ! آپ کا یہ قول کہ آیات قرآنیہ سے ہم کو یہ یقین حاصل ہے نہایت تعجب کی جگہ ہے قرآن شریف میں متشابہات بھی ہیں اور بینات بھی اور بلاشبہ بینات قرآنی آپ کے اس مطلب کے مخالف ہیں اور اگر بفرض محال قرآن شریف میں بتصریح لکھا ہوتا کہ تم سب خدا ہو تب بھی اس کی کوئی تاویل کرنی پڑتی ۔ کیونکہ ہم بخوبی جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم نہایت عاجز اور ذلیل ہیں کسی طرح خدا نہیں بن سکتے اور ہمارے اس یقین کو تاویلات رکیکہ اُٹھا نہیں سکتیں ۔ لوہے کو لوہا تو ڑ سکتا ہے نہ خس و خاشاک ۔ جنہوں نے خدائی کا دعوی کیا وہ آخر نہایت ذلیل ہو کر مرے ہیں ۔ غرض خدا بننے کے لئے اپنی خدائی کا کچھ ثبوت بھی تو دینا چاہیے ورنہ دعوی بلا دلیل صرف ایک معصیت ہے جس سے پر ہیز کرنا چاہے ۔ والسلام علی من اتبع الهدی ۲۳ راگست ۱۸۹۸ء ے بنی اسراءیل : ۳۷ الحکم نمبر ۲۶ جلد ۵ صفحه ۱۵۔ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۱ء