مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 674 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 674

بچشم ظاہر کثیر معلوم ہوتی ہیں وہ بچشم باطن ایک مانی جاویں اور دیکھی جاویں یہ معنے جب ہی صحیح ہوسکتے ہیں کہ اللہ بمعنی مطلق معبود کے جیسا کہ لغت سے ثابت ہے اور قرآن کی جابجا آیتوں سے ثابت ہے کہا جاوے اور مانا جاوے اور خبر لا کی غیر اللہ محذوف کی جاوے۔پس معنے یہ ہوں گے کہ نہیں ہے کوئی معبود باطل یا مستحق العبادت غیر اللہ کے مگر اللہ ہی ہے۔پس جب کوئی غیر اللہ نہیں ہے تو عین اللہ ہے ورنہ ارتفاع نقیضین محال آوے گا او رمعبودان کفار ممکنات ہیںجب وہ غیر اللہ نہ ہوئے تو جملہ ممکنات غیر معبود ان بھی غیر اللہ نہ ہوئے۔کیونکہ ترجیح بلا مرجح ہے کہ بعض ممکنات عین اللہ ہوں اور بعض غیر اللہ انتہٰی تقریرہ پس علم یقینی اور قطعی سے آپ کی یہ مراد ہے کہ دلائل حقہ سے یقین ہوگیا ہو تو بے شک اللہ پاک نے مجھے یقین عنایت کیا ہے او ر اگر یہ مراد ہے کہ فنا کا مقام حاصل ہونے سے جو علم ہوتا ہے جس کو الہام کہتے ہیں تو یہ مرتبہ ابھی تک نہیں حاصل ہوا۔اس کی طلب سے اللہ پاک نے آپ کو صاحب الہام کیا ہے جیسا کہ آپ اپنی کتاب میں اعلان دے چکے ہیں۔اگر آپ کو الہام کے ذریعہ سے یہ معلوم ہوجاوے کہ مجھے یہ مرتبہ آپ کی حضور میں حاصل ہو سکتا ہے تو برائے خدا مجھے طلب فرمائے۔دیانند کو جو ایک کافر تھا آپ نے ضروری اخراجات دینے کا وعدہ لکھا تھا میں آپ سے کچھ روپیہ پیسہ نہیں لینا چاہتا اور مسلمان ہوں وہ اپنی شقاوتِ ازلی کے سبب محروم رہا۔میں انشاء اللہ تعالیٰ حاضر ہوں گا۔جواب باصواب سے سرفراز فرمائے۔۱۹؍اگست ۱۸۸۸ء خمکتوب نمبر۳ جواب مکرمی اخوی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا مجھ کو بباعث شدت کم فرصتی زیادہ گفتگو کی فرصت نہیں۔میں ہر گز سمجھ نہیں سکتا کہ مخلوق باوجود اپنے ضعف و ناتوانی وجہل و نادانی و حیرت و سرگردانی اور ہر ایک قسم کے نقصان کے اور عیب کے کہ جو اس کی فطرت کو لگی ہوئی ہیں۔کیونکہ دراصل اپنی ماہیت میں عین خالق ہوسکتا ہے اگر انسان عین خالق ہوتا تو الوہیت کی تمام صفات بلاشبہ اس میں پائی جاتیں۔