مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 673 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 673

مکتوبات احمد ۶۷۳ جلد اول مقدم رکھا ہے چاہے سمجھ میں نہ آوے اس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ اور اس اعتقاد کے صحیح ہونے پر جا بجا قرآن میں اور حدیثوں میں دلائل فرمائے ہیں ۔ منجملہ ان آیات کے جن سے ہمہ اوست ثابت ہے لا إلهَ إِلَّا الله ہے جس کی صحت کی دلیل لَوْ كَانَ فِيهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَنَا ہے۔ اب اس کا ثبوت چاہیے کہ لَا اِلهَ اِلَّا الله سے ہمہ اوست کیسے ثابت ہے سواس کے بہت دلائل ہیں منجملہ ان دلیلوں کے ایک دلیل یہ ہے کہ ایک بزرگ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ صاحب کشاف نے شان نزول آیت اَجَعَلَ الْأَلِهَةَ الهَا وَاحِدًا کی یہ لکھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبی ورسول ہونے کا اعلان کیا اور چند لوگ مثل ابو بکر صدیق و حمزہ و علی و عمر و غیر هم رضی اللہ عنہم اجمعین ایمان لائے اور آنحضرت نے بتوں کو نا پاک فرمایا تو کفار قریش نے مسلمانوں کو تکلیف دینا شروع کیا۔ ایک روز صنادید قریش ابو طالب کے پاس آئے اور کہا تم سردار ہو اپنے برادر زادہ محمد کو سمجھا دو (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہ ہمارے معبودوں کو بُرا نہ کہے ہم ان کو اور ان کے ساتھیوں کو تکلیف دیں گے ۔ ابو طالب نے آنحضرت کو طلب کیا اور کہا یہ تمھاری قوم تم سے کچھ درخواست کرتی ہے امید ہے کہ تم قبول کرو گے آنحضرت قوم کی طرف متوجہ ہوئے کہ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا آپ نے فرمایا کہ تم میرا ایک کلمہ مان لو تو میں بھی تمہاری بات مان لوں گا ۔ انہوں نے کہا ہم مان لیں گے آپ نے فرمایا قولوا لا اله الا الله پس وہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس سے متحیر اور متعجب ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اَجَعَلَ الْأَلِهَةَ إِلهَا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا الشَيْءٍ عُجَابٌ ، پس یہ بات سب پر روشن ہے کہ رسول عربی ہیں اور وہ لوگ بھی اہل عرب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی برادری تھی وہ ان کی کلام کا مطلب سمجھتے تھے پس جب لَا إِلهَ إِلَّا الله کے نہ ماننے کی وجہ انہوں نے یہ کیا اللہ کثیرہ کا الہ واحد گرداننا تعجب کی بات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ لَا إِلهَ إِلَّا الله کے معنی یہی ہیں یعنی کئی معبودوں کو ایک گرداننا۔ اور ظاہر ہے کہ تعجب اسی چیز پر ہوتا ہے کہ جس کا بھی مخفی ہو اور عقل میں نہ آوے اور جعل سے جعل فعلی مراد نہیں ہو سکتی جعل عقلی مراد ہے اور یہی معنے ہمہ اوست کے ہیں۔ کہ جو چیزیں الانبياء : ٢٣ ٢ ص : ٦