مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 673
مقد م رکھا ہے چاہے سمجھ میں نہ آوے اس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔اور اس اعتقاد کے صحیح ہونے پر جابجا قرآن میں اور حدیثوں میں دلائل فرمائے ہیں۔منجملہ ان آیات کے جن سے ہمہ اوست ثابت ہے ہے جس کی صحت کی دلیل ۱؎ ہے۔اب اس کا ثبو ت چاہیے کہ سے ہمہ اوست کیسے ثابت ہے سواس کے بہت دلائل ہیں منجملہ ان دلیلوں کے ایک دلیل یہ ہے کہ ایک بزرگ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ صاحب کشاف نے شان نزول آیت کی یہ لکھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبی و رسول ہونے کا اعلان کیا اور چند لوگ مثل ابو بکر صدیق و حمزہ و علی و عمر وغیرھم رضی اللہ عنہم اجمعین ایمان لائے اور آنحضرت نے بتوں کو ناپاک فرمایا تو کفار قریش نے مسلمانوں کوتکلیف دینا شروع کیا۔ایک روز صنا دید قریش ابو طالب کے پاس آئے اور کہا تم سردار ہو اپنے برادر زادہ محمدکو سمجھادو (صلی اللہ علیہ وسلم) کہ ہمارے معبودوں کو بُرا نہ کہے ہم ان کو اور ان کے ساتھیوں کو تکلیف دیں گے۔ابو طالب نے آنحضرت کو طلب کیا اور کہا یہ تمھاری قوم تم سے کچھ درخواست کرتی ہے امید ہے کہ تم قبول کرو گے آنحضرت قوم کی طرف متوجہ ہوئے کہ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔انہوں نے کہا آپ نے فرمایا کہ تم میرا ایک کلمہ مان لو تومیں بھی تمہاری بات مان لوں گا۔انہوں نے کہا ہم مان لیں گے آپ نے فرمایا قولوا لا الہ الا اللّٰہپس وہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس سے متحیر اور متعجب ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ۲؎ پس یہ بات سب پر روشن ہے کہ رسول عربی ہیں اور وہ لوگ بھی اہل عرب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی برادری تھی وہ ان کی کلام کا مطلب سمجھتے تھے پس جب کے نہ ماننے کی وجہ انہوںنے یہ کیا اللہ کثیرہ کا الٰہ واحد گرداننا تعجب کی بات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ کے معنی یہی ہیں یعنی کئی معبودوں کو ایک گرد اننا۔اور ظاہر ہے کہ تعجب اسی چیز پر ہوتا ہے کہ جس کا بھید مخفی ہو اور عقل میں نہ آوے اور جعل سے جعل فعلی مراد نہیں ہوسکتی جعل عقلی مراد ہے اور یہی معنے ہمہ اوست کے ہیں۔کہ جو چیزیں