مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 668
۱؎ ٌٔ۲؎ اور قرآن شریف کے متفرق مقامات میں ذات باری کی یہ صفات قرار دی گئی ہیںکہ وہ مبدأ ہے تما م فیضوں کا اور منبع ہے تمام طاقتوں کا اور مستجمع ہے جمیع کمالات کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور قیوم ہے تمام چیزوں کا اور لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور لایدرک ہے اپنے وجود کی کُنہ میں اور اپنے کاموں کی کُنہ میں۔وہ نزدیک ہے باوجود دُوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے۔سب کے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی چیز مماس ہے۔سب کی جان ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی چیز کا عین حقیقت ہے۔وہ غیر محدود ہے اوربرتر ہے خیال سے اور گمان سے اور قیاس سے نظریں اس پر احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ نظروں پر محیط ہے کوئی بھی ایسی شے نہیں کہ اس کی مانند ہو۔پس اس کے لئے تم مثالیں مت گھڑو۔اب حاصل کلام کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وجود باری کو ایک ایسا برتر وَ لَایُدْرِکُ و ممیز ذات قرار دیا ہے کہ کوئی شے اس کی مثل و مانند نہیں ہوسکتی اور لامحدود کو محدود سے کیا مشابہت اور قوی مطلق کو ضعیف محض سے کیا نسبت۔سو مخلوق عین خالق کا کیونکر ہوسکے اور خدائی قوتیں کہاں سے لاوے اور وجودیوں کے ہاتھ میں اس مسئلہ کے اثبات کے لئے شرعی یاقانونی یاعقلی کوئی ثبوت بھی نہیں صرف ایک ظن فاسد ہے۔۳؎ قَالَ اللّٰہُ تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی ۴؎ جن بزرگوں کو اپنے سلوک ناتمام اور کشف خام کی وجہ سے یہ دھوکہ لگا ہے وہ تو ایک وجہ سے معذور بھی تھے۔اسی وجہ سے ہماری تمام ملامت سے جو اس خط میںہم نے کی ہے وہ مستثنیٰ ہیں۔اور باوجود اس خطاکے ہم ان کو بزرگ ہی سمجھتے ہیںکیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ خد اتعالیٰ کے لطف و مرحمت نے اس غلطی پر انجام کارگو قریب موت ہی ہو۔ان کو متنبہ کر دیا ہوگا جیسا کہ عین موت کے وقت مجدد سرہندی کے مرشد اس غلطی پر متنبہ کئے گئے اور اپنے آخری وقت میں انہوں نے اس ضلالت کے خیال سے توبہ کی اور لوگوں کو اس توبہ کا گواہ کیا۔سو ہمارا دل بڑے استحکام سے شہادت دیتا ہے کہ محی الدین ابن العربی صاحب نے