مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 667
ر کشف میں بھی اثر کرکے خود اس سالک کو بڑے بڑے دھوکوں میں ڈالتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر الہامات بھی اسی رنگ سے رنگین ہوجاتے ہیں۔چنانچہ اس جگہ اس عاجز کے پاس اپنی ذاتی تجارب اور خود گزشتہ وار داتوں کا ایک عجیب ذخیرہ ہے کہ اگر اس کو نقل کیا جائے تو پھر یہ خط نہیں رہے گا بلکہ ایک رسالہ بن جائیگا جس کے لئے ابھی فرصت نہیں۔بہر حال جن پر عنایت ایزدی ہے وہ اس مقام سے آگے نکالے جاتے ہیں او رجن کو شقاوت کا کچھ حصہ ہے وہ اس میںمحصور اور اسیر رہتے ہیں۔اب قصہ کوتا ہ بعض نادان صوفیوں نے حدیث اور آیت سے قطع امید کرکے وحدت وجود کے اثبات کے لئے اقوال مشائخ گزشتہ کی طرف نظر کی تو اس کوچہ میں آکر بہت دھوکے انہوں نے کھائے یہاں تک کہ بعض اچھے آدمی بھی اس دھوکے میں پھنس گئے جو اقوال سلف صالحین کے توحید شہودی کے جوش میں نکلے تھے یا بعض اولیاء کے ایسے شطحیات جو متشابہات میں داخل تھے انہیںکو وحدت وجود کی دلیل سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ ایک خطا فاش تھی۔ہم مکرر لکھتے ہیں کہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ عشّاق الٰہی کو ان کے سلوک عاشقانہ کی حالت میںیہ امر لابدی اور لازمی اور ان کی راہ میں پڑا ہے کہ وہ ولولہ عشق اور محبت سے مست ہوکر ایسے کلمات زبان پر لاویں جن سے ان کی اور ان کے مولا محبوب کی یگانگت مترشح ہو جیسا کہ عشاق مجازی کے منہ سے بھی اسی طور کے کلمات اکثر نکلا کرتے ہیں اور کوئی ان کو وحدتِ وجود کی طرف منسوب نہیں کرتا۔سوان بزرگوں کے کلمات جابجا توحید شہودی کی خوشبو سے بھرے ہوئے ہیں جو حالت ذوق اور مستی میں ان کے منہ سے نکلے ہیں مگر وحدت وجودی تو عشق اور محبت کے مشرب سے مناسبت نہیں رکھتے بلکہ وہ خود وجودیوں کی نگاہ میں ایک فلسفیانہ راہ ہے جس کے لئے کچھ ضروری نہیں کہ عشق اور محبت بھی ہو۔لیکن خدا تعالیٰ کی نسبت جو لایدرک اور وراء الوریٰ ہے ایسا ظاہر کرنا گویا یہ دعوٰی ہے کہ ہم نے اس کی اصل حقیقت معلوم کرلی ہے اور اس کی کُنہ تک پہنچ گئے ہیں۔حالانکہ کلام الٰہی ایسے ایسے خیالات سے منع فرماتا ہے اور مخلوق اور خالق میں صاف امتیاز قائم کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔۱؎