مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 666 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 666

کبھی اپنی نرمی دکھاتا ہے اور کبھی تلخ اور شور اور بے مزہ کی صور ت میں اور کبھی شیریں اور خوشگوار پانی کی شکل میں نظر آتا ہے اور کبھی طوفان کی طرح قوت غضبی کے زور سے بہتا ہے اور کبھی نہایت آہستگی اختیار کرتا ہے۔اس پانی کو جاہل خیال کرتا ہے کہ یہ نفسانی جذبات کا پانی ہے اور اہل اللہ کی شان عظیم سے منکر ہوجاتا ہے یاشک میں پڑجاتا ہے۔حالانکہ ان کا نفس بہت سے صیقلوں کے شیشہ کی صفت پر آگیا ہے اور جو کچھ ایک جاہل کو پانی اور پانی کا زور نظر آتا ہے وہ الٰہی چشمہ ہے جو اس شیشہ کے نیچے بہتاہے۔سو کامل انسان میں خدا تعالیٰ کے ارادے کام کرتے رہتے ہیں اور غسّال کی طرح اس میّت کو کبھی اس پہلو اور کبھی دوسرے پہلو بدلتے رہتے ہیں۔کبھی خد ا تعالیٰ کی طرف سے کبر یائی اس میں جوش مارتی ہے اور جاہل اس کا نام تکبر رکھتا ہے اور کبھی وہ درگزر اور خاکساری اختیار کرتا ہے اور جاہل اس کو بزدلی سے منسوب کرتا ہے۔کبھی عارف خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق میں ڈوب کر ایک طرفۃ العین کے لئے اس کے رنگ سے رنگیں ہوجاتا ہے اور اس عاشقانہ بے تمیزی میں الوہیت کی چادر اپنے اوپر لپیٹ لیتا ہے اور بخودی کی حالت میں اَنَا الْحَقُّ یَا سُبْحَانِیْ مَااَعْظَمَ شَأْنِیْ کے مثل الفاظ اپنے منہ سے نکالتا ہے۔تب جاہل یا تو اس کو کفر کی طرف منسوب کرتا ہے اور یااس کے مستانہ قول کو فرقہ ضالہ وحدۃ الوجود کیلئے سند پکڑتا ہے۔اگرچہ کسی اہل اللہ کے منہ سے اناالحق وغیرہ نکلنا اس کے ضعف اور کمزوری کی نشانی ہے اور اس بات پر دال ہے کہ ابھی وہ شخص عبودیت کے اعلیٰ ترین مقام پر جو منتہائے دائرہ کمالات انسانی ہے نہیں پہنچا۔لیکن ایسے ایسے الفاظ میں یہ نقصان ہے کہ ان سے بہت سے لوگ فتنہ میں پڑتے ہیں اور ہلاک ہوتے ہیں۔سو ذاتی اور اخلاقی لیاقت عارف کی یہی ہے کہ ایسے جوشوں کو دبا رکھے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں کے منہ سے ایسے ایسے شطحیات ہرگز نہیں نکلے لیکن ناتمام عارفوں کی مستانہ بکواس سے نادانوں کو بہت نقصان پہنچا اور جس نشہ کی ایک باافراط جوش نے ان کے منہ سے ایسے الفاظ نکالے تھے اس کی طرف جاہلوں کا خیال نہیں آیا اور اس شک میں پڑ گئے کہ درحقیقت مخلوق خالق کا عین ہے۔تب ہی تو ایسے ایسے بزرگوار عینیت کا دعوی کرتے ہیں اور بوجہ اپنی جہالت کے ان کو یہ نہ سوجھاکہ یہ سالکین کے لئے ایک درمیانی مقام ہے۔جس میں محویت عشقی کی ایک آندھی آتی ہے یہاں تک کہ حالت خواب اور