مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 661 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 661

مکتوبات احمد ٦٦١ جلد اول قولہ : حضرت غوث پاک کے وعظ میں کثرت سے لوگ مسلمان ہوتے تھے ۔ آپ نے کتنوں کو مسلمان کیا۔ اقول : اے قصے کہانیوں پر بھروسہ کرنے والے اور افسانوں پر ناز کرنے والے ۔ کیا تجھے ایک بزرگ رسول کی نسبت یہ آیت یاد نہیں وَمَا آمَنَ مَعَةً إِلَّا قَلِیل اور کیا تجھے یہ آیت یاد نہیں يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ ما سوا اس کے اس عاجز کے پاس تھوڑے عرصہ میں ستر ہزار کے قریب ایسے لوگوں کے خط پہنچے جنہوں نے اس عاجز کی تالیفات سے فیض اٹھانے کی شہادت دی اور ہدایت پانے کی گواہی دی اور ابھی یہ سلسلہ کب ختم ہو گیا ہے۔ اوائل میں نبیوں اور رسولوں کا کام بھی دشواری سے چلا ہے مگر پیچھے سے يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجات کا بزرگ نشان ظاہر ہو گیا ہے ۔ سنت نبویہ اس عاجز کے ساتھ جاری کی گئی ہے اور اس بارہ میں براہین احمدیہ میں ایک الہام بھی چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ هَذَا الَّذِي كُنتُمُ بِهِ تَسْتَعْجِلُون تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَّ مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَّدْ خُلَ فِيهَا إِلَّا خَائِفًا دیکھو حصہ چہارم براہین احمدیہ۔ قولہ: پائے استدلالیاں چوبیں بود اقول : قَالَ اللهُ تَعَالَى وَتَقَدَّس - الشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُنَ وَقَالَ عَزَّوَجَلَّ - يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا وَقَالَ اللهُ تَعَالَى مُخْبِرًا مِنْ اَهْلِ النَّارِ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحُبِ السَّعِيرِ وَقَالَ عَزَّوَجَلَّ - إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ : پس ان آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ نے عقل کو معطل کرنا نہیں چاہا اور انسان مکلف بوجہ عقل ہی ہوتے ہیں اور صاحب کمال هود: ۱ ۲ پس : ۳۱ ۳ النصر : ۳ ۴ تذکره: ۸۱ ۵ تذکره صفحه ۳۰۲ ۶ تذکره صفحه ۶۸ ۷ الشعراء: ۲۲۵ ۸ البقره: ۲۷۰ ۹ الملك : اا ا ال عمران : ۱۹۱