مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 660
اصفیاء کی تعظیم کرتے ہیںنہ تحقیق کے طور پر وہ ہمیشہ سے اور قدیم سے ایسے ایسے الفاظ جدید الظہور اولیاء اور انبیاء کی نسبت کہتے چلے آئے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف اُن کے خیالات و مقالات کا شاہد ہے ۔۱؎ قولہ:حضرت غوث الثقلین کے دعوی کو توکل اولیاء اللہ نے مان لیا تھا۔مگر آپ کے دعوی کو توکوئی نہیں مانتا۔اقول: اے بے خبر مجھ پر بھی ظاہر ہو اہے کہ صفحہ زمین کے کل اولیاء اللہ نے مجھے مان لیا ہے۔ہاں خبیثوں اور بے ایمانوںنے نہیںمانا ۲؎ اللہ شانہٗ نے مجھے خبر دی ہے کہ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ صُلَحَآئَ الْعَرَبِ وَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَتُصَلِّیْ عَلَیْکَ الْاَرْضُ وَالسَّمَآئُ وَ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ عَنْ عَرْشِہٖ۔۳؎ بارہا غوث اور قطب وقت میرے پر مکشوف کئے گئے ہیں جو میری عظمت مرتبت پر ایمان لائے ہیں اور لائیںگے اور مجھے خد اتعالیٰ نے اپنے اس الہام سے خبر دی ہے کہ اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۴؎ اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کر نے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے اور مجھے خدا وند کریم سے وہ نسبت ہے کہ اگر مجھ پر کامل طور پر کھل جاتا کہ اسی درجہ کی نسبت شیخ عبد القادر کو بھی حاصل ہے تو میں ان کی تعظیم کرتا اور اب بھی کرتاہوں کیونکہ اجمالی طور پر میںنے اپنے درجہ سے ان کی مناسبت پائی ہے۔وَقَدِ اسْتَخْلَفَنِیَ اللّٰہُ کَمَا اسْتَخَلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِیْ وَقَالَ اِنَّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۵؎ وَقَالَ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ۶؎ وَقَالَ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ۷؎ سِرُّکَ سِرِّیْ۸؎ وَقَالَ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ۹؎ اَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ۱۰؎ وَقَالَ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَۃِ لَایَعْلَمُھَا الْخَلْقُ۱۱؎ وَقَالَ اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ وَ کَلَّمَنِیْ وَ نَاجَانِیْ وَ ذَکَرَنِیْ فِیْ کِتَابِہٖ وَ فِیْ حَدِیْثِ رَسُوْلِہٖ وَ اٰتَانِیْ مَالَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِنَ الْعٰلَمِیْنَ۔