مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 654 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 654

مکتوبات احمد ۶۵۴ جلد اول دیکھو کیا روشن و درخشاں دعوی ہے کہ تمام وجودی، یہودی ، عیسائی ، آریہ وغیرہ مجال نہیں رکھتے کہ سامنے آویں ۔ ان سب دشمنان اللہ و رسول پر یہ الہام صاعقہ کا حکم رکھتا ہے۔ کیا آپ برعایت شرائط متذکرہ بالا ایک سال تک رہنے کیلئے آسکتے ہیں ۔ ہر گز امید نہیں کہ آئیں ۔ اللہ جل شانہ نے مجھے الہام دیا ہے سَنُلْقِي فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ اور نیز مجھے بشارت دی ہے کہ اگر کوئی مخالف آوے گا تو ذلیل اور رُسوا ہو کر جائیگا میں آپ کو پھر مکرر دعوت کرتا ہوں کہ اگر پورے ایک سال کیلئے لہام کی آزمائش کے لئے آویں اور ایک سال تک رہیں اور مجھ کو جھوٹا اور مکار پاویں تو جوتا وار میری مقدرت کے موافق آپ تجویز کریں وہ ادا کروں گا ۔ یا آپ کے سال کی تنخواہ بحساب دس روپے جو آپ کو ملتے ہیں آپ کو دے دوں گا ۔ اور اگر میں سچا نکلا تو بجز اس کے کچھ نہیں چاہتا کہ آپ وجودیت سے تو بہ کر کے دین اسلام میں داخل ہوں اور دو چار اخباروں میں شائع کرادیں کہ مجھ پر ثابت ہو گیا کہ وجودی مذہب ضلالت اور الحاد کی راہ ہے اور اب سچے دل سے اللہ اور رسول اور قرآن شریف پر ایمان لایا اور الحاد کے طریقہ سے تو بہ کی ۔ میرے تاوان قولہ: جس سے کرامت کا صدور ہوگا اس کو دعوی کرنے اور اشتہار دینے کی ضرورت کیا ہے۔ جیسے فضل الرحمن صاحب اودھ میں ہیں کہ ان کی قدم بوسی کیلئے ہر شہر سے لوگ چلے آتے ہیں اور مرادیں پاتے ہیں ۔ اقول: جو کامل مردان خدا ہیں وہی دعوی کرتے ہیں ۔ مخنثوں اور نامردوں کا کام نہیں جو دعوی کریں ۔ فضل الرحمن بیچارا خدا جانے کون اور کس خیال کے آدمی ہیں ۔ غالباً وہی وجودی پیر زادہ ہوگا ۔ یہی حضرات ہیں جو جا بجاد کا نہیں کھول رہے ہیں ۔ ایسے بودے کی کیا طاقت جو ایک جہان کے سامنے کچھ دعوی زبان پر لاوے ۔ میدان میں کھڑے ہو کر کروڑ ہا مخالفوں کے سامنے دعوی کرنا ہر ایک ایسے ویسے آدمی کا کام نہیں ۔ یہ دعوی اولوالعزم رسولوں نے کیا ۔ یا انہوں نے جو اُن کے قائمقام اور کمالات میں ان کے مثیل ہیں ۔ دوسروں سے جو بز دل اور ضعیف الایمان اور ربانی شجاعوں اور بہادروں میں سے نہیں ہیں اور نہ کامل بھروسہ اللہ جل شانہ پر رکھتے ہیں ایسا عالی شان دعوی کب ہو سکتا ہے ۔ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۳۸