مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 653
اقول:اس سے آپ نے خود اقرار کر لیا کہ وہ کلمات توحید شہود ی کے پاک چشمہ سے تھے نہ مکدر اور مغشوش چشمہ وحدت وجود سے۔کیونکہ فنا اور محویت عشقی کا نتیجہ توحید شہودی ہے نہ وجودی۔جو شخص غلبہ عشق سے فانی اور محو ہوگیاہے اس کو ا س تحقیق سے کیا غرض کہ واقعی امر ہمہ اوست ہے یا ہمہ از وست۔وہ تو محویت عشقی کے جوش سے کہتا ہے کہ من تو شدم تو من شدی عشق آمد شد خودی قولہ:اگر اب بھی میرے دعوی کو نہ سمجھے ہوں اور اپنے دعوی مجددیت کو ثابت نہ کرسکیں تومیرے خطوط واپس بھیج دو۔اقول:اگر میں آپ کے خطوط کو کچھ چیز سمجھتا اور خیال کرتا کہ کسی انسان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں تومیں ان کو عزت سے رکھتا اور ان کو واپس بھی کر دیتا مگر میرے پاس ایسے مخالفین اسلام کے ہزار ہا ردّی خطوط او ر فضول آتے ہیں اور چاک کئے جاتے ہیں۔رہا یہ امر کہ میری الہامیت اورمجددیت کا دعوی ثابت ہے یا نہیں؟ تو بفضلہ تعالیٰ ایسا ثابت ہے کہ وجودیوںکی ہزار پشت تک بلکہ اس وقت جو وجودیوں کا تخم نکلاہے ایسا ثبو ت ملنا ان کے خود ساختہ بزرگوں میں مشکل ہے۔اور اگر وجودیوں میں کوئی صاحب الہام اور قبولیت ہے تو میرے مقابل پر آوے۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ حال کے وجودی نرے شیخ نجدی کے ہی خلیفہ ہیں اور کوئی وجہ مشیخت کی نہیں۔ ۱؎ قولہ:میرے خیال میں نہیں آتا کہ بغیر حصول مرتبہ فنا کے کوئی صاحب الہام ہوسکے۔اقول:یہی وجہ ہے کہ وجودیوںمیں کوئی صاحب الہام نظر نہیں آتا۔کیونکہ ان میں فنا کا نام ونشان نہیں وہ تو عبدالدراہم والد ینار ہیں۔لیکن اس عاجز کا الہام کوئی مخفی چیز نہیں اورنہ کوئی امر غیر مثبت۔آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید از وے رو متاب