مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 652
اقول: حضر ت لوگوں کا کچھ قصو رنہیں ان کو کیوں آپ ناحق کوستے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ کے پُر جوش کلمات ناقص العقلی اور خباثت الباطنی کے وجودیوں پر ہی عائد ہوتے ہیں نہ کسی اہل حق پر۔کیونکہ وہی لوگ توحید شہودی کے معنوں کو بگاڑ کر خواہ نخواہ وحدت وجودی کی طرف لے آتے ہیں۔چنانچہ کسی کا سکر اور فنائے نظری کی حالت میں انا الحق کہنا ہمہ اوست کا کلمہ زبان پر لانا یا سبحانی ما اعظم شانی منہ سے نکلنا یہ سب کلمات عشقی محویت کی حالت میں توحید شہودی کے چشمہ سے نکلے ہیں۔اور وجودیوں کی یہ ناقص العقلی اور خباثت الباطنی ہے جو کہ ان عاشقانہ کلمات کو وحدت وجودی پر نازل کرتے ہیں۔چنانچہ اس مقام میں مجدد الف ثانی صاحب بھی اپنے ایک خط میں جو شیخ فرید کی طرف لکھا ہے لکھتے ہیں۔توحید وجودی کہ نفی ماسوا یک ذات است تعالیٰ وتقدس باعقل و شرع درجنگ است… واقو ال بعضی ازمشائخ کہ بظاہر بشریت حقہ مخالف می نمایند بتوحید وجودی۔بعضی مردم آنہا را فرودمی آرند مثل قول ابن منصور الحلاج انا الحق و قول ابی یزید بسطامی سبحانی و امثال اینہا… حالانکہ ایں اقوال ازاں قسم عشاق بتوحید شہودی انسب و اقرب اندوبر محل آں چسپاں ترایں کلمات بتوحید شہودی فرود ناید آورد و مخالف شرع رادور باید ساخت آن بزرگان ایں چنیں سخنان از مقام غلبہ محویت عشقی و حیرت گفتہ اند و امثال ایں سخنان درایں مقام بعض را وحی دہد… وچوں ازایں مقام بگذرند و بحق الیقین میر مسانند از امثال ایں کلمات تحاشی می نمایند واز حد اعتدال تجاوز نمی فرمایند…… اکثر ابنائے ایں وقت …بد امن توحید وجودی زدہ اند وہمہ راعین حق می دانند بلکہ عین حق می دانند وگرد نہائے خود را از ربقہ تکلیف شرعی بالحیلہ می کشایند و مدانہات در احکام شرعیہ می نمائید۔ّتم کلامہ اب اس خط سے بھی ظاہر ہے کہ یہ وجودی ہمیشہ خدائی کا دعوی کرتے رہے ہیں اور بے قیدی اور اباحت ان کو لازم حال ہو رہی ہے۔قولہ:منصور اور بایزید کے منہ سے فنا کے مقام میں وہ کلمات نکلتے تھے۔