مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 651
اقول: یہ میرے لئے آپ بے چارہ رومی کا شعرآپ لائے ہیں۔سو اس کا جواب شعر کے ساتھ ہی دیا جاتا ہے کیونکہ شعر کے جواب میں شعر ہی زیباہے اور وہ یہ ہے۔مہ نور می فشاند و سگ بانگ می کند سگ را بپرس خشم تو برماہتاب چیست قولہ:ان وجودیوں کی ضلالت سے جو ملک پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔اصحاب وحدت الوجود کو فرقہ ضالّہ نہیں کہا جاسکتا۔اقول: جس حالت میں فرقہ ضالہ کہنے کا اصل موجب یہی ہے کہ تمام وجودی خواہ عام میں داخل ہوں یا خاص میں۔مخلوق کو عین خالق کا جانتے ہیں توپھر وہ سب کے سب فرقہ کہلائے یاکچھ اور ہاں یہ سچ ہے کہ پنجاب کے وجودی اکثر تارک الصلوٰۃ والصوم، زانی، فاسق، فاجر بلکہ بعض کجرو، شارب الخمر وغیرہ ہیں۔قولہ: اصحاب وحدۃ الوجود میں رومی اور محی الدین عربی اور شیخ عبدا لقادر گیلانی داخل ہیں۔اقول: رومی کی عبار ت سے صرف توحید شہودی معلوم ہوتی ہے اس کو جاہل وحدۃ وجودی سمجھتے ہیں۔محی الدین نے غلطی کھائی ایک بشر تھا بھول گیا اس کا بوجھ اس پر اور تمہارا تم پر۔اور سید گیلانی پر وجودیت کی تہمت ہے ان کا قول ہے کہ کل حقیقۃ ردتہا الشریعۃ فھو زندقۃ۔فتوح الغیب کو آپ نے نہیں پڑھا یا اگر پڑھا ہے تو نہیں سمجھا۔فتوح الغیب تو وجودیوں کی جڑ کاٹتی ہے اس کو غور سے پڑھو تامعلوم ہو۔قولہ:کسی وحدۃ الوجود والے نے یہ نہیں کہا اور نہ یہ سمجھا کہ میں خد اہوں۔اقول:اگر وجودی مذہب میں آپ کی معلومات کا یہ حال ہے تو پھر جھگڑا ہی کیوں شرو ع کیا۔آپ کو خبر نہیںکہ آپ کے مقتدا حضر ت محی الدین صاحب فصوص میں فرماتے ہیں۔بل ھوعین لاغیر ھا۔اور اس بات کو کون نہیںجانتا کہ وجودی مخلوق کو عین خالق کا سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں حقیقی طور پر نہ مجازی طور پر۔کیونکہ اگر ا س جگہ کسی مجاز کو دخل ہوتو پھروہ توحید شہودی ہوگی نہ وحدت وجودی۔قولہ: کیا تماشا ہے کہ لوگ اپنی ناقص العقلی اور خباثت باطنی سے بزرگانِ دین پر تہمت کرتے ہیں اور اناالحق اور ہمہ اوست کے معنی بگاڑ کر کچھ کا کچھ سمجھتے ہیں۔