مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 642 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 642

مکتوبات احمد ۶۴۲ جلد اول اور کس وقت حیلہ بہا نہ کیا ۔ کیا آپ کے نزدیک وہ صوفی صاحب ، جن کے نام بھی اب تک کچھ پتہ ونشان نہیں ، میدان میں کھڑے ہیں ۔ میں نے آپ کو ایک صاف اور سیدھی بات لکھی تھی کہ جب تک کوئی مقابل پر نہ آوے اپنا نام نہ بتاوے ۔ اپنا اشتہار شائع نہ کرے کس سے مقابلہ کیا جائے ۔ میں کیونکر اور کن وجوہ سے اس بات پر تسلی پذیر ہو جاؤں کہ آپ یا شیخ بٹالوی اس صوفی گمنام کی طرف سے وکیل بن گئے ہیں ۔ کوئی وکالت نامہ نہ آپ نے پیش کیا اور نہ بٹالوی نے ۔ اور اب تک مجھے معلوم نہیں ہوا کہ اس صوفی پردہ نشین کو وکیلوں کی ضرورت کیوں پڑی ۔ کیا وہ خودستر میں ہے یا دیوانہ یا نا بالغ ۔ بجز اس کے کیا سمجھنا چاہیے کہ اگر فرض کے طور پر کوئی صوفی ہی ہے تو کوئی فضول گو اور مفتری آدمی ہے جو بوجہ اپنی مفلسی اور بے سرمائیگی کے اپنی شکل دکھانی نہیں چاہتا۔ میں متعجب ہوں ۔ یہ سیدھی بات آپ کو سمجھ نہیں آتی ۔ یہ کس قسم کی بات ہے کہ صوفی تو عورتوں کی طرح چھپتا پھرے اور مردِ میدان بن کر میرے مقابلہ پر نہ آوے اور الزام اس عاجز پر ہو کہ کیوں صوفی کے مقابل پر کھڑے نہیں ہوتے ۔ صاحب من ! میں تو بحکم اللہ جل شانہ کھڑا ہوں اور خدا تعالیٰ کے یقین دلانے سے قطعی طور پر جانتا ہوں کہ اگر کوئی صوفی وغیرہ میرے مقابل آئے گا۔ تو خدا تعالیٰ اس کو سخت ذلیل کرے گا۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ اس واحد لاشریک عزاسمہ نے مجھ کو خبر دی ہے جس پر مجھ کو بھروسہ ہے۔ ایسے صوفیوں کی میں کس سے مثال دوں وہ ان عورتوں کی مانند ہیں جو گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھیں اور پھر کہیں کہ ہم نے مردوں پر فتح پائی ۔ ہمارے مقابل پر کوئی نہ آیا۔ اور پھر کہ ہم نے مردوں پر فتح پائی۔ ؟ میں پھر مکر رکہتا ہوں کہ بٹالوی کی تحریر سے مجھ کو سخت مشبہ ہے اور اس کے ہر روزہ افتراء پر خیال کر کے مجھ میرے دل میں یہی جما ہوا ہے کہ یہ صوفی کا تذکرہ محض فرضی طور پر اس نے اپنی اشاعۃ السنہ میں لکھ دیا ہے ورنہ مقابلہ کا دم مارنا اور پھر پردہ میں رہنا کیا راست باز آدمیوں کا کام ہے۔ اس صوفی کو چاہیے کہ میری طرح کھلے اشتہار دے کہ میں حسب دعوت فیصلہ آسمانی تمہارے مقابل پر آیا ہوں ۔ اور میں فلاں ابن فلاں ہوں۔ اگر اس اشتہار کے شائع ہونے اور میرے پاس پہنچائے جانے کے بعد میں خاموش رہا تو جس قدر آپ نے اپنے اس خط میں ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ ” حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو ۔ صاف باطن دغل باز نہیں ہوتے ۔“ یہ سارے الفاظ آپ کے میری نسبت صحیح ٹھہریں گے ورنہ دشنام دہی سے زیادہ نہیں ۔ جب انسان کی آنکھ بند ہو جاتی ہے تو اس کو روز روشن وا