مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 637
مکتوبات احمد ۶۳۷ جلد اول تمثل شیطان جائز ہے۔ پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بعض ایسے خوارق اور علامات خاصہ بھی ہوں جن کی وجہ سے اُس رؤیا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلا دیں یا بعض قضا و قدر کے نزول کی باتیں پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلا دیں جو پہلے قلم بند اور شائع نہیں ہو چکے تو بلا شبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی ۔ ورنہ اگر ایک شخص دعوی کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بیشک کافر اور دجال ہے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اس خواب بین نے چالا کی کی لی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنالی ہے۔ سو اگر میر صاحب میں در حقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی خواب میں آ جاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھا دیں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ سے اس بات کو بپایہ ثبوت پہنچا دیں کہ در حقیقت اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے۔ اور اگر انہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اُس سیدھے طور سے مقابلہ کریں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے ۔ ہمیں بالفعل اُن کی رسول بینی میں ہی کلام ہے۔ چہ جائیکہ اُن کی رسول نمائی کے دعوی کو قبول کیا جائے ۔ پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعوی میں صادق ہیں یا کا ذب ۔ اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا۔ پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں ۔ اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا عجوبہ بھی دکھلا دیں۔ قادیان میں آجائیں ۔ مسجد موجود ہے ۔ اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اس چ اس عاجز کے ذمہ ہوگا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صہ ہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف و گزاف