مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 625
نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ہندوؤں کے یہی خیالات اور عقائد ہیں یا جو اُن کے محقّقوں نے اپنی معتبر کتابوں میں لکھے ہیں۔کیونکہ اوّل مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ وید کے چار دفتر ہیں۔سو مرزا صاحب کی پہلی غلطی یہی ہے کہ وید کو ایک کتاب قرار دے کر اُس کے چار دفتر خیال کرتے ہیں بلکہ حق بات جس کا ثبوت ایک امر بدیہی کی طرح حال کے زمانہ میں کھل گیا ہے یہ ہے کہ وید کے مجموعے چار کتابیں ہیں جو چار مختلف زمانوں میں کئی لوگوں نے اُن کو بنایا ہے۔چنانچہ چوتھا وید جو اتھرون سے موسوم ہے اُس کی نسبت اکثر ہندوؤں کی یہی رائے ہے کہ وہ پیچھے سے ویدوں کے ساتھ ملایا گیا ہے اور کسی برہمن نے اُس کو لکھا ہے اور اُس کے سوا جو تین وید ہیں وہ الگ الگ کتابیں ہیں جن کو الگ الگ رشیوں نے جمع کیا ہے اور ہندوؤں کے محقّقوں کے نزدیک برہما کچھ چیز نہیں ہے بلکہ وید اگنی اور وایو اور سورج پر اُترے ہیں اور محقق ہندو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو اَٹھارہ پُران اور شاستر وغیرہ اُپنشدیں ہندوؤں کے ہاتھ میں ہیں۔وہ وید کے مضمون سے بہت مخالفت رکھتے ہیں اور بہت سے اور مضامین اُن کتابوں میں پائے جاتے ہیں جو وید میں نہیں ہیں۔مثلاً یہی خیال کہ چاروں وید برہما کے چاروں مُکھ سے نکلے ہیں۔اس کا کوئی اصل صحیح وید میں نہیں پایا جاتا۔ایسا ہی یہ کہنا کہ دنیا کا کوئی خالق ہے وید کی رُو سے بڑا گناہ اور پاپ کی بات ہے بلکہ وید کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے۔دنیا خود بخود قدیم سے ایسی ہی چلی آتی ہے۔جیسا پرمیشر چلا آتا ہے اور پرمیشر کے وجود سے دنیا کے وجود کو کسی قسم کا فیض نہیں پہنچتا۔یہاں تک کہ اگر پرمیشر کا مرنا بھی فرض کر لیا جائے تو دنیا کا اس میں کچھ بھی حرج نہیں۔اور ایسا ہی ہندوؤں کے محقق یہ بھی کہتے ہیں کہ حشر اجساد کچھ چیز نہیں اور وید پر عمل کرنے سے ہرگز کسی کا گناہ عفو نہیں ہو سکتا اور نہ توبہ و استغفار کچھ کام آتی ہے۔بلکہ ایک گناہ کے عوض میں ہر ایک شخص کو چوراسی لاکھ جون سزا میں بھگتنی پڑے گی۔اُن کا یہ بھی قول ہے کہ وید اخبار ماضیہ اور مستقبلہ سے بکلّی خالی ہے اور کوئی امر خارقِ عادت جو نبیوں سے ظہور میں آتا ہے اس میں درج نہیں اور مکاشفات کا ذکر تک نہیں۔اور اُن کے نزدیک مکاشفات اور خوارق اور پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ از قبیل محالات ہیں جن کا وجود ہرگز ممکن نہیں۔اور جن لوگوں پر وید نازل ہوا وہ لوگ ان باتوں سے بکلّی محروم تھے اور وید کی رُو سے ان باتوں کا ظہور میں آنا قطعی طور پر ناجائز اور غیر ممکن ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ ہندوؤں کے محقق تو اپنے وید کو اخبار ماضیہ اور مستقبلہ سے