مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 624 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 624

بے جا اور نامناسب کام کیا کہ بے خبر محض ہونے کی حالت میں وید دانی کا بھی دعویٰ کر بیٹھے۔اُن کے لئے یہی بہت فخر کی بات تھی کہ وہ اپنے فقیرانہ اَشغال و اَذکار میں مشغول رہتے اور جس کوچہ میں ایک ذرّہ بھی اُن کی رسائی نہیں تھی اس کی نامعلوم خبریں لوگوں کو نہ بتلاتے۔پھر مرزا صاحب اپنے مکتوبات میں یہ لکھتے ہیں کہ ہندوؤں کا وید چار دفتر میں ہے جو احکام امرونہی و اخبار ماضیۂ مستقبلہ پر مشتمل ہے اور یہ وید بذریعہ ایک فرشتہ کے جس کا نام برہما تھا آغاز ایجاد عالم میں ہندوؤں کو پہنچا ہے۔اُسی وید میں سے اُن کے پُران اور شاستر نکالے گئے ہیں اس وید میں بلحاظ عمر طولانی عالم کے چار طور کی مختلف ہدایت رکھی گئی ہیں جن میں سے بعض ہدایتیں ست جگ کے مناسب حال ہیں اور بعض ہدایتیں کل جگ کے مناسبِ حال ہیں اور ہندو اگرچہ مختلف فرقے ہیں مگر وہ سب کے سب توحید باری پر اتفاق رکھتے ہیں اور عالَم کو مخلوق سمجھتے ہیں اور روز حشر کے قائل ہیں اور معارف اور مکاشفات میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں اور اُن کے بُت پرست حقیقت میں بُت پرست نہیں ہیں بلکہ وہ بعض ملائکہ کو جو باَمرِالٰہی عالَم کون و فساد میں تصرف رکھتے ہیں یا بعض کاملین کی ارواح کو جن کا تصرف بعد گذر جانے کے اس نشأ دنیا سے باقی ہے یا بعض زندوں کو جو اُن کے زُعم میں خضر کی طرح ہمیشہ زندہ رہتے ہیں قبلہ توجہ کر لیتے ہیں۔یعنی صوفیہ اسلامیہ کی طرح اُن کی خیالی صورتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جیسے صوفیہ اسلامیہ اپنے پیر کی صورت کا تصور کرتے ہیں اور اُس سے فیض اُٹھاتے ہیں مگر صرف اتنا فرق ہے کہ اسلامی صوفی ظاہر میں کوئی تصویر شیخ کی اپنے آگے نہیں رکھتے اور یہ لوگ رکھ لیتے ہیں۔سو اُن کی یہ صورتِ عبادت کفّارِ عرب کی بُت پرستی سے مشابہ نہیں کیونکہ کفّارِ عرب اپنے بتوں کو متصرف و مؤثر بالذّات مانتے تھے اور اُن کو خدائے زمین سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو خدائے آسمان مانتے تھے۔اسی طرح ہندو لوگ جو اُن تصویروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ سجدہ بھی سجدہ عبادت نہیں بلکہ سجدہ ّتحیت ہے۔اُن کی شرع میں باپ اور پیر اور اُستاد کے لئے بجائے سلام کے بھی سجدہ مرسوم اور معمول ہے۔انتہیٰ۔اب مرزا صاحب نے اپنے اس بیان میں جس قدر غلطیاں کی ہیں اور دھوکے کھائے ہیں اور خلاف واقعہ لکھا ہے، ہم کس کس کی اصلاح کریں۔مرزا صاحب نے صرف کسی نادان ہندو کی زبانی سن کر بغیر اپنی ذاتی تحقیق کے یہ خس و خاشاک غلطیوں کا اس خط میں بھر دیا ہے۔نہ معلوم کہ اُنہوں