مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 615 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 615

درسی کتاب بنانے کے لئے سرکار انگریزی میں پیش کیا جائے تو پنڈت صاحب نے ایسا ہی کیا۔اور صاحب لفٹیننٹگورنر پنجاب کی خدمت میں ایک درخواست معہ چند جز اپنے وید بھاش کے بدیں التماس مرسل کئے۔کہ یہ ویدبھاش میرا یونیورسٹی میں لڑکوں کو پڑھایا جائے کیونکہ میں نے بڑی ہمت اور بہادری کر کے وید میں توحید ثابت کر دکھائی ہے اور وہ لاکھوں پنڈت جھوٹے ہیں جو وید کو توحید سے خالی سمجھتے ہیں۔اس پر صاحب لفٹیننٹ بہادر کو درخواست کے سننے سے بہت تعجب ہوا کہ یہ کیونکر اور کیسے ممکن ہے کہ وید جو اپنی مشرکانہ تعلیم سے سارے جہان کے اعتراضوں کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ضرب المثل ہے وہ شرک اور دیوتا پرستی سے خالی ہو۔سو اُنہوں نے وہ درخواست یونیورسٹی کے چیدہ اور منتخب پنڈتوں کے پاس بھیج دی کہ وہ پنڈت دیانند کی وید بھاش کو دیکھ کر اپنی رائے لکھیں۔اب قصہ کوتاہ یہ کہ سب پنڈتوں نے بالاتفاق یہ رائے لکھی کہ وید بھاش دیانند کا سرا سر غلط اور پوچ اور لغو ہے۔وید کی مخلوق پرستی کی تعلیم اور جابجا دیوتاؤں کی پوجا کے لئے ترغیب اور تحریک ایسا امر نہیں ہے کہ اُس کو چھپا سکیں یا پوشیدہ رکھ سکیں۔سو دیانند کا وید بھاش ویدوں سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ہاں اگر اُس کو ایک نیا وید کہیں جس کے پنڈت صاحب ہی مصنف ہیں۔تو یہ کہنا بجا اور درست ہے۔اس رائے کے پہنچنے سے صاحب لفٹیننٹگورنر بہادر نے پنڈت دیانند کی درخواست کو نامنظور کر کے اُس کو اطلاع دے دی کہ یہ وید بھاش تمہارا عام رائے پنڈتوں سے برخلاف ہے۔اس لئے قابل منظوری نہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ اگر وید میں ایک ذرّہ بھی توحید کی بُو پائی جائے تو کیونکر تمام ہندوستان کے پنڈت اُس سے انکاری یا غافل رہتے۔اور اگر بفرض محال یہ بھی تسلیم کر لیں کہ وید میں بطور معمّا یا چیستان اور پہیلی کے ایک چھپی ہوئی توحید ہے جس پر صرف پنڈت دیانند کو اطلاع ہوئی اور دوسری تمام دنیا اس سے بے خبر رہی۔تو پھر یہ سوال عایٔد ہو گا کہ ایسی پیچیدہ اور سربمہر توحید سے دنیا کو کیا فائدہ ہوا۔اور بجز اس کے کہ لاکھوں بندگانِ خدا وید کے اُلٹے معنی سمجھ کر دیوتا پرستی میںمبتلا ہوئے اور کیا نتیجہ ایسے پیچیدہ بیان سے نکلا۔کیا ہندوؤں کے پرمیشر کو بات کرنے کا سلیقہ بھی یاد نہیں کہ بجائے اس کے جو توحید کو کہ جو اُس کا اصل مطلب تھا واضح تقریر سے بیان کرتا ایسے بے سروپا اور غیرفصیح لفظوں میں بیان کیا کہ جس سے لوگ کچھ کا کچھ سمجھنے لگے اور ہزارہا دیوتاؤں کی ہندوؤں میں پوجا شروع ہوگئی اور مخلوق پرستی اُس حد تک پہنچ گئی جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔اور یہ تو ہم نے