مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 43
مکتوبات احمد ۴۳ جلد اول سوال کرتا ہوں کہ جیسے بقول آپ کے یہ سب ارواح جو آپ کے تصور میں بے انت ہیں سب کے سب دنیا کی طرف حرکت کرتے ہیں ۔ اگر اسی طرح اپنے بھائیوں مکتی یافتوں کی طرف حرکت کریں تو اس میں استبعاد عقلی ہے اور کونسی حجب منطقی اس حرکت سے ان کو روکتی ہے اور کس برہان لمی یا انی سے لازم آتا ہے کہ دنیا کی طرف انتقال اُن سب کا ہر سرشٹی کے دورہ میں جائز بلکہ واجب ہے۔ لیکن کوچ ان سب کا مکتی یافتوں کے کوچہ کی طرف ممتنع اور محال ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس عالم دنیا کی طرف کونسی پختہ سڑک ہے کہ سب ارواح اس پر بآسانی آتے جاتے ہیں، ایک بھی باہر نہیں رہ جاتی ۔ اور اُن مکتی یافتوں کے راستہ میں کونسا پتھر پڑا ہوا ہے کہ اس طرف اُن سب کا جانا ہی محال ہے۔ کیا وہ خدا جو سب ارواح کو موت اور جنم دے سکتا ہے ، سب کو مکتی نہیں دے سکتا؟ جب ایک طور پر سب ارواح کی حالت متغیر ہوسکتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ دوسرے طور سے وہ حالت قابل تغیر نہیں ؟ اور نیز کیا یہ بات ممکن نہیں جو خدا ان سب ارواح کا یہ نام رکھ دے کہ مکتی یاب ہیں ، جیسا اب تک یہ نام رکھا ہوا ہے کہ مکتی یاب نہیں ۔ کیونکہ جن چیزوں کی طرف نسبت سلبی جائز ہوسکتی ہے بیشک اُن چیزوں کی طرف نسبت ایجابی بھی جائز ہے۔ اور نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ قضیہ کہ، سب ارواح موجودہ نجات پا سکتے ہیں ، اس حیثیت سے زیر بحث نہیں کہ محمول اس قضیہ کا جو نجات عام ہے مثل کسی جزئی حقیقی کے قابل تنقیح ہے بلکہ اس جگہ مبحوث عنه امر کی ہے ۔ یعنی ہم کلی طور پر بحث کرتے ہیں کہ ارواح جو ابھی مکتی نہیں پائی ، آیا بموجب اصول آریہ سماج کے اس امر کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں کہ کسی طور کا عارضہ عام خواہ مکتی ہو یا کچھ اور ہو، اُن سب پر طاری ہو جائے ۔ سو آ ر یہ صاحبوں کے ہم ممنون منت ہیں جو اُ نہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ یہ عارضہ عام بعض صورتوں میں سب ارواح پر واقع ہے، جیسے موت اور جنم کی حالت سب ارواح موجودہ پر عارض ہو جاتی ہے۔ اب با وا صاحب خود ہی انصاف فرماویں کہ جس حالت میں دو مادوں میں اس عارضہ عام کے خود ہی قائل ہو گئے تو پھر اس تیسرے مادے میں جو سب کا مکتی پانا ہے انکار کرنا کیا وجہ ہے؟ موجودہ نے جوا پھر باوا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ علاوہ زمین کے سورج اور چاند اور سب ستاروں میں بھی بکثرت جانور آباد ہیں اور اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ثابت ہو گیا کہ بے انت ہیں ۔ پس باوا صاحب پر واضح رہے کہ اول تو یہ خیال بعض حکماء کا ہے جس کو یورپ کے حکیموں نے اخذ کیا ہے اور ہماری