مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 597
لوگ خدا تعالیٰ سے بالکل بے غرض ہیں اور وسیع مشربی کے پردہ میں اپنے نفسِ امّارہ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں اگر اُن کی سرشت میں کچھ بُو صدق کی ہے تو پہلے انسان بن کر ہی دکھلا دیں۔پیچھے سے الوہیت کا دعویٰ کریں کیونکہ انسان بننے کے ہی ایسے لوازم ہیں جن کی ابھی تک بُو اُن میں نہیں آئی۔نہ اُس کے حصول کی کچھ پرواہ رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ اُمّتِ محمدیہ کی آپ اصلاح کرے۔عجب خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ عاجز بباعث اپنی علالت طبع کے اس مضمون کو تفصیل اور بسط سے نہیں لکھ سکا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ طالب حق کے لئے اسی قدر کافی ہے مگر جس شخص کا مقصد خدا نہیں اس کو کوئی دقیقہ معرفت اور کوئی نشان مفید نہیں۔ َ ۱؎ اور یہ عاجز دو دن کے رفع انتظار کی غرض سے یہ خط لکھا گیا اور اب میں توکلاً علی اللّٰہ امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہوں۔والسلام ۱۳؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۴؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۴۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر صاحب سلمہ ٗ۔بعد سلام مسنون آںمخدوم کا خط آج امرتسر میں مجھ کو ملا۔پانچ جلدیں حصہ اوّل و دوئم و سوئم روانہ ہو چکی ہیں۔ایک خط دہلی کے علماء کی طرف سے اس خاکسار کو آیا تھا کہ مولوی محمد نے تکفیر کا فتویٰ بہ نسبت اس خاکسار کے طلب کیا ہے۔نہایت رفق اور ملائمت سے رہنا چاہئے۔آج حضرت خداوندکریم کی طرف سے الہام ہوا۔یَا عَبْدَالرَّافِعِ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔اِنِّیْ مُعِزُّکَ لَامَانِعَ لِمَا اُعْطِیْ۔۲؎ شاید پرسوں مکرر الہام ہوا تھا۔۔۳؎ یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہو چکا ہے۔۱۵؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ ۱؎ یونس: ۱۰۲ ۲؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۹۷ ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۹۶