مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 596 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 596

مکتوبات احمد ۵۹۶ جلد اول ہے۔ ہے کہ جو چاہے پیدا کرے نہ کہ ہندوؤں کے اوتاروں کی طرح ہر جگہ بُرے بھلے کام کرنے کے لئے آپ ہی جنم لیتا رہے۔ سوخدا کی ذات سے سلب قدرت کرنا اور اُس کو طرح طرح کے گناہوں اور پاپوں اور بے ایمانیوں کا مور د ٹھہرانا اور انواع اقسام کی جہالتوں کو اُس پر روا رکھنا اسی توحید وجودی کا نتیجہ ہے جس کو وجو دی لوگ نہیں سمجھتے۔ عقلمند انسان کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کرتا جس دعویٰ کا ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ پس اگر یہ لوگ عاقل ہوتے تو ایسا دعویٰ کرنے سے متہاشی ہوتے ۔ زیادہ تر خرابی ان میں یہ ہے کہ اُن کی زبان اُن کے فعل اور عمل پر غالب ہو رہی قسم کی ظلمت ہمارے ہے ۔ ذرا خیال نہیں کرتے کہ ہم کو نفس امارہ نے کہاں تک پہنچا رکھا ہے اور کس قسم کی ظلمت دلوں پر طاری ہو رہی ہے اور کیونکر ہم دن رات جیفہ دنیا میں غرق ہو رہے ہیں ۔ اگر یہ لوگ ایسا خیال کرتے اور انسانی ترقیات کو حال کے ذریعہ سے دیکھتے نہ صرف قال کے ذریعہ سے، تو یہ تمام اوہام اُن کے خود بخود اُٹھ جاتے ۔ مثلاً ایک عاقل سیاح کے پاس یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی سیاح فلاں جزیرہ میں پہنچتا ہے تو بجائے دو آنکھ کے اُس کی چار آنکھیں ہو جاتی ہیں اور منہ سے سنتا ہے اور کانوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ تو ایسی خلاف قیاس خبر پر صرف اسی حالت میں عقلمند یقین کرے گا کہ جب بیان کنندہ اس خبر کا خود اس جزیرہ میں ہو کر آیا ہو اور یہ چار آنکھیں اور ایسا منہ اور ایسے کان اس نے دکھلائے ہوں یا کوئی اور انسان پیش کر دیا ہو جس میں یہ صفتیں موجود ہوں اور اگر ایسا نہیں کیا تو ہرگز وہ عاقل اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا اور غایت کا راس احمق کو یہ جواب دے گا کہ بھائی میں بھی تو اُسی جزیرہ کی طرف چلا جاتا ہوں ۔ سو اگر ایسی ہی اس جزیرہ میں خاصیت ہے تو میری بھی وہاں جا کر چار آنکھیں ہو جائیں گی اور میں بھی منہ سے سنوں گا اور کانوں سے دیکھوں گا ۔ تب خود میں تیرے اس بیان کو قبول کرلوں گا ۔ اب میں بلا ثبوت کیوں کر قبول کر سکتا ہوں ۔ سو سمجھنا چاہئے کہ جو انسان اپنے نفس کو دھو کہ نہیں دیتا اور اپنے خیال کو گمراہی میں ڈالنا نہیں چاہتا وہ باتیں چھوڑ دیتا ہے اور کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور سرگرمی سے منزل مقصود کی طرف قدم رکھتا ہے۔ پھر اس راہ کے تمام عجائبات بالضرورت اُس کو دیکھنے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے حق الامر اُس پر کھل جاتا ہے مگر جو کوئی صرف باتوں میں مقید رہتا ہے اور محض سنے سنائے قصوں پر کہ جو عقل اور شرع سے بکلی منافی ہیں جم جاتا ہے وہ اپنے نفس کو آپ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ حقیقت میں ایسے سو