مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 595 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 595

دیکھتا ہے تو اس دھوکہ میں پڑ جاتا ہے کہ گویا وہ آیات توحید وجودی کی طرف اشارہ ہے اور اس بات کونہیں سمجھتا کہ خداوند کے کلام میں تناقض نہیں ہو سکتا۔جس حالت میں اُس نے صدہا آیات بیّنات اور نصوصِ صریحہ میں اپنے وجود اور مخلوق کے وجود میں امتیاز کلی ظاہر کر دیا ہے اور اپنے مصنوعات کو موجود واقعی قرار دے کر اپنی صانعیت اُس سے ثابت کی ہے۔اور اپنے غیر کو شقی اور سعید کی ِقسموں میں تقسیم کیا ہے اور بعض کیلئے خلودِ جنت اور بعض کے لئے خلودِ جہنم قرار دیا ہے اور اپنے تمام نبیوں اور مرسلوں اور صدیقوں کو بندہ کے لفظ سے یاد کیا ہے۔اور آخرت میں اُن کی عبودیت دائمی غیر منقطع کا ذکر فرمایا ہے تو پھر ایسے صاف صاف اور کھلے کھلے بیان کے مقابلہ پر کہ جو بالکل عقلی طریق سے بھی مطابق ہے بعض آیات کی کسی اور طرح پر معنی کرنا صرف اُن لوگوں کا کام ہے کہ جو راہِ راست کے طالب نہیں۔بلکہ آرام پسند اور آزاد طبع ہو کر صرف الحاد اور زندقہ میں اپنی عمر بسر کرنا چاہتے ہیں۔ورنہ ظاہر ہے کہ اگر انسان صرف عقل کی رُو سے بھی نظر کرے تو وہ فی الفور معلوم کرے گا کہ مشتِ خاک کو حضرت پاک سے کچھ بھی نسبت نہیں۔انسان دنیا میں آ کر بہت سے مکروہات اپنی مرضی کے برخلاف دیکھتا ہے اور بہت سے مطالب باوجود دعا اور تضرع کے بھی حاصل نہیں ہوتی۔پس اگر انسان فی الحقیقت خدا ہی ہے تو کیوں صرف کُنْ فَیَکُوْنُ کے اشارہ سے اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتا اور کیوں صفات الوہیت اس میں محقق نہیں ہوتیں کیا کوئی حقیقت اپنے لوازم ذاتی سے معرّا ہو سکتی ہے۔پس اگر انسان کی حقیقت الوہیت ہے تو کیوں آثار الوہیت اس سے ظاہر نہیں ہوتے۔حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس برس تک روتے رہے مگر اپنے فرزند عزیز کا کچھ پتہ نہ ملا مگر اسی وقت کہ جب خدا نے چاہا۔پس جب کہ صفات الوہیت نبیوں میں ظاہر نہیں ہوئے تو اور کون ہے جس میں ظاہر ہوں گے اور جب کہ اب تک کوئی ایسا مرد پیدا نہیں ہوا کہ جس نے میدان میں آکر تمام مخالفوں اور موافقوں کے سامنے الوہیت کی طاقتیں دکھلائی ہوں تو پھر آئندہ کیونکر امید رکھیں۔ماسوا اس کے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ انسان سے کیسے کیسے بُرے اور ناپاک کام صادر ہوتے ہیں۔پس کیا عقل کسی عاقل کی تجویز کر سکتی ہے کہ یہ سب ناپاکیاں خدا کی روح کر سکتی ہے۔پھر علاوہ اس کے مخلوق کے وجود سے انکار کرنا دوسرے لفظوں میں اس بات کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ قادرِ مطلق نہیں۔کیونکہ اگر اس کو قادر مطلق مان لیا ہے تو پھر اُس کی قدرت تامّہ کا اسی بات پر ثبوت موقوف