مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 42

مکتوبات احمد ۴۲ جلد اول اضعاف کو عقل تجویز کر سکتی ہے اور نہ کوئی دانا محدود زمانی اور مکانی کو بے انت کہے گا ۔ باوا صاحب برائے مہربانی ہم کو بتلا دیں کہ اگر سوا چار ارب کی پیدائش کا نام بے انت ہے تو ساڑھے آٹھ ارب کی پیدائش کا نام کیا رکھنا چاہئے ۔ غرض یہ قول صریح باطل ہے کہ ارواح موجودہ محدود زمانی اور مکانی ہو کر پھر بھی بے انت ہیں کیونکہ مدت معین کا توالد و تناسل تعداد معینہ سے کبھی زیادہ نہیں۔ اور اگر یہ قول ہے کہ سب ارواح بدفعہ واحد زمین پر جنم لیتے ہیں ۔ سو بطلان اس کا ظاہر ہے کیونکہ زمین محدود ہے اور ارواح بقول آپ کے غیر محدود پھر غیر محدود ۔ کس طرح محدود میں سما سکے ۔ اور اگر یہ کہو کہ بعض حیوانات با وصف مکتی نہ پانے کے نئی دنیا میں نہیں آتے ۔ سو یہ آپ کے اصول کے برخلاف ہے کیونکہ جبکہ پیشتر عرض کیا گیا ہے آپ کا یہ اصول ہے کہ ہر نئی دنیا میں تمام وہ ارواح جو سرشٹی گزشتہ میں مکتی پانے سے رہ گئے تھے اپنے کرموں کا پھل بھوگنے کے واسطے جنم لیتے ہیں ، کوئی جیو جنم لینے سے باہر نہیں رہ جاتا۔ اب قطع نظر ان دلائل سے اگر اسی ایک دلیل پر ، جو محدود فی الزماں والمکان ہونے کے ہے، غور کیا جائے تو صاف ثابت ہے کہ آپ کو ارواح کے متعدد ماننے سے کوئی گریز گاہ نہیں اور بجر تسلیم کے کچھ بن نہیں پڑتا بالخصوص اگر اُن سب دلائل کو جو سوال نمبرا میں درج ہو چکے ہیں ان دلائل کے ساتھ جو اس تبصرہ میں اندراج پائیں ملا کر پڑھا جائے تو کون منصف ہے جو اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا کہ ایسے روشن ثبوت سے انکار کرنا آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔ پھر افسوس که با وا صاحب اب تک یہی تصور کئے بیٹھے ہیں کہ ارواح بے انت ہیں اور مکتی پانے سے کبھی ہیں اور سے کبھی ختم نہیں ہونگے ۔ اور حقیقت حال جو تھا سو معلوم ہوا کہ گل ارواح پانچ ارب کے اندر اندر ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں اور نیز ہر پر لے کے وقت پر ان سب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اگر بے انت ہوتے تو اُن دونوں حالتوں مقدم الذکر میں کیوں ختم ہونا اُن کا رکن اصول آریہ سماج کا ٹھہرتا۔ عجب حیرانی کا مقام ہے کہ باوا صاحب خود اپنے ہی اصول سے انحراف کر رہے ہیں ۔ اتنا خیال نہیں فرماتے کہ جو اشیاء ایک حالت میں قابل اختتام ہیں وہ دوسری حالت میں بھی یہی قابلیت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مظروف اپنے ظرف سے کبھی زیادہ نہیں ہوتا ۔ پس جبکہ گل ارواح ظروف مکانی اور زمانی میں داخل ہو کر اندازہ اپنا ہر نئی دنیا میں معلوم کرا جاتے ہیں اور پیمانہ زمان مکان سے ہمیشہ ماپے جاتے ہیں تو پھر تعجب کہ باوا صاحب کو ہنوز ارواح کے محدود ہونے میں کیوں شک باقی ہے۔ میں باوا صاحب سے