مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 590 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 590

مکتوب نمبر۴۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آپ نے جو قول وحدت وجود کی نسبت استفسار فرمایا ہے اُس میں یہ بہتر تھا کہ اوّل آپ اُن وساوس اور اوہام کو لکھتے جن کو قائلین اس قول سقیم کے بطور دلیل آپ کے روبرو پیش کرتے ہیں کیونکہ اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی اور کتاب اللہ اور احادیثِ نبویؐ کو بتدبّر و تفکر تمام دیکھا اور محی الدین عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھرے ہوئے ہیں اور خود عقل خداداد کی رُو سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا لیکن آج تک اس دعویٰ کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حجت ہاتھ نہیں آئی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حجج قطعیہ قائم ہوتے ہیں کہ جو کسی طرح اُٹھ نہیں سکتیں۔اوّل بڑی بھاری دلیل مسلمانوں کے لئے بلکہ ہر یک کے لئے کہ جو حق پر قدم مارنا چاہتا ہے قرآن شریف ہے کیونکہ قرآن شریف کی آیات محکمات میں بار بار اور تاکیدی طور پر کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ ہے۔وہ سب مخلوق ہے اور خدا اور انسان میں ابدی امتیاز ہے کہ جو نہ اس عالَم میں اور نہ دوسرے عالَم میں مرتفع ہوگی۔اس جگہ بھی بندگی بیچارگی ہے اور وہاں بھی بندگی بیچارگی ہے۔بلکہ اُس پاک کلام میں نہایت تصریح سے بیان فرمایا گیا ہے کہ انسان کی روح کے لئے عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اُس کی پیدائش کی عبودیت ہی علّتِ غائی ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے۔ ۱؎ یعنی میں نے جنّ اور انس کو پرستش دائمی کے لئے پیدا کیا ہے اور پھر انسان کامل کی روح کو اُس کے آخری وقت پر مخاطب کر کے فرمایا  ۔۲؎ یعنی اے نفس بحق آرام یافتہ! اپنے ربّ کی طرف واپس چلا آ تو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔سو میرے بندوں میں داخل ہو اور میرے بہشت میں اندر آ جا۔ان دونوں آیات جامع البرکات سے ظاہر ۱؎ الذّٰریٰت: ۵۷ ۲؎ الفجر: ۲۸ تا ۳۱