مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 589 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 589

پر موجود پاوے تو جلد تر اپنے جامہ سے باہر نہ آوے اور اپنی دیرینہ خدمت اور ارادت کو ایک ساعت میں برباد نہ کرے بلکہ یقینا دل میں سمجھے کہ یہ ایک ابتلاہے کہ جو میرے لئے پیش آیا اور اپنی ارادت اور عقیدت میں ایک ذرّہ فتور پیدا نہ کرے اور کوئی اعتراض پیش نہ کرے اور خدا سے چاہے کہ اس کو اُس ابتلا سے نجات بخشے۔اور اگر ایسا نہیں تو پھر کسی نہ کسی وقت اُس کے لئے ٹھوکر درپیش ہے۔جن پر خدا کی نظر لطف ہے اُن کو خدا نے ایک مشرب پر نہیں رکھا۔بعض کو کوئی مشرب بخشا اور بعض کو کوئی اور۔اُن لوگوں میں ایسے مشرب بھی ہیں کہ جو ظاہری علماء کی سمجھ سے بہت دور ہیں۔حضرت موسیٰ جیسے اولوالعزم مرسل خضر کے کاموں کو دیکھ کر سراسیمہ اور حیران ہوئے اور ہر چند وعدہ بھی کیا کہ میں اعتراض نہیں کروں گا پر جوش شریعت سے اعتراض کر بیٹھے۔اور وہ اپنے حال میں معذور تھے اور خضر اپنے حال میں معذور تھا۔غرض اس مشرب کے لوگوں کی خدمت میں ارادت کے ساتھ آنا آسان ہے مگر ارادت کو سلامت لے جانا مشکل ہے۔بات یہ ہے کہ خدا کو ہر ایک زاہد کا ابتلا منظور ہے تا وہ اُن پر اُن کی چھپی ہوئی بیماریاں ظاہر کرے۔سو نہایت بدقسمت وہ شخص ہے کہ جو اُس ابتلا کے وقت تباہ ہو جائے۔کاش! اگر وہ دور کا دور ہی رہتا تو اُس کے لئے اچھا ہوتا۔ابوجہل کچھ سب سے زیادہ شریر نہ تھا۔پر رسالت کے زمانہ نے اُس کا پردہ فاش کیا۔اگر کسی بعد کی صدی میں کسی مسلمان کے گھر پیدا ہو جاتا تو شاید وہ خبث اُس کی چھپی رہتی۔سو خبث امتحان ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔بہتر یہ ہے کہ آںمخدوم ابھی اس عاجز کی تکلیف بیعت کے لئے بہت زور نہ دیں کہ کئی اندیشوں کا محل ہے۔یہ عاجز معمولی زاہدوں اورعابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ اُن کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ اُن کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ اور دور ہے۔سَیَفْعَلُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ اگر خدا نے چاہا تو وہ قادر ہے کہ اپنے خاص ایماء سے اجازت فرماوے۔ہر ایک کو اس جگہ کے آنے سے روک دیں اور جو پردہ غیب میں مخفی ہے اُس کے ظہور کے منتظر رہیں۔باقی سب خیریت ہے۔٭ ۱۸؍جنوری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۸؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ ٭ اخبار الحکم نمبر۳۱ جلد۳۔۳۱؍ اگست ۱۸۹۹ء