مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 587
مکتوبات احمد ۵۸۷ جلد اول بنیاد ڈالتا ہے۔ کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور مشہود وغیرہ آتا ہے جیسے یہ مصرع تمام شب گزرانیم در قیام و سجود چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں پھر ا خیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اُس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا وہ بطور الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ یہ ہے :۔ طریق زہد و تعبد ندانم اے زاہد خدائے من قدم راند برره داؤد سو سچ ہے کہ یہ نا چیز زہد اور تعبد سے خالی ہے اور بجز عجز و نیستی اور کچھ اپنے دامن میں نہیں اور وہ بھی خدا کے فضل سے نہ اپنے زور سے ۔ جو لوگ تلاش کرتے ہیں وہ اکثر زاہدین اور عابدین کو تلاش کرتے ہیں اور یہ بات اس جگہ نہیں ۔ آپ کے مبلغ پچاس روپیہ عین ضرورت کے وقت پہنچے ۔ بعض آدمیوں کے بے وقت تقاضا سے بالفعل پچاس روپیہ کی سخت ضرورت تھی ۔ دعا کے لئے یہ الہام ہوا ۔ بحسن قبولی دعاء بنگر که چه زود دعا قبول میکنم ۳ ۳۰ ر جنوری ۱۸۸۴ء کو یہ الہام ہوا ۔ ۶ تاریخ کو آپ کا روپیہ آ گیا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ ۔ ے جنوری ۱۸۸۴ء ۔ ۷ / ربیع الاول ۱۳۰۱ھ *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* لے تذکره صفحه ۹۳ ۔ ایڈیشن چہارم کے تذکره صفحه ۹۳ و ۹۴ ۔ ایڈیشن چہارم