مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 585 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 585

مکتوبات احمد ۵۸۵ جلد اول ہیں ۔ کیونکہ اُن کے لکھے جانے پر عرصہ دراز گزر گیا ہے ناچار اس بند و بست کے لئے کچھ دن امرتسر ٹھہر نا پڑے گا اور دوسری طرف یہ ضرورت درپیش ہے کہ ۲۶ / دسمبر ۱۸۸۳ء تک بعض احباب بطور مہمان قادیان میں آئیں گے اور اُن کیلئے اس خاکسار کا یہاں ہونا ضروری ہے سو یہ عاجز بنا چاری امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہے اور معلوم نہیں کہ کیا پیش آوے۔ اگر زندگی اور فرصت اور توفیق ایزدی یاور ہوئی اور کچھ وقت میسر آ گیا تو انشاء اللہ القدیر ایک دن کے لئے امرتسر میں فراغت پا کر آں مخدوم کی طرف روانہ ہوں گا ۔ مگر وعدہ نہیں اور کچھ خبر نہیں کہ کیا ہو گا اور خداوند کے فضل و کرم ربوبیت سے اس عاجز کو فرصت مل گئی تو آں مخدوم اس بات کو پہلے سے یا د رکھیں کہ صرف ایک رات رہنے کی گنجائش ہو گی ۔ کیونکہ بشرط زندگی و خیریت کہ جو حضرت خدا وند کریم کے ہاتھ میں ہے ۔ ۲۶ دسمبر ۱۸۸۳ء تک قادیان میں واپس آ جانا ہے۔ اُن سے وعدہ ہو چکا ہے ۔ وَالْأَمْرُ كُلُّهُ فِي يَدِ الله اور ایک دن کے لئے آنا بھی ہنوز ایک خیال ہے وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْحَالِ ۔ اگر خداوند کریم نے فرصت دی اور زندگی اور امن عطا کیا اور امرتسر کے مخمصہ سے صفائی اور راحت حاصل ہوئی اور تاریخ مقررہ پر واپس آنے کے لئے گنجائش بھی ہوئی تو یہ عاجز آنے سے کچھ فرق نہیں کرے گا ۔ مگر آپ ریل پر ہرگز تشریف نہ لاویں کہ یہ نہ لاویں کہ یہ تکلف ہے ۔ یہا یہ احقر عباد سخت : دسخت ناکاره اور بے ہنر ہے اور اس لائق ہرگز نہیں کہ اس کے لئے کچھ تکلف کیا جائے ۔ مولیٰ کریم کی ستاریوں اور پردہ پوشیوں نے کچھ کا کچھ ظاہر کر رکھا ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم ۱۹ دسمبر ۱۸۸۳ ء مطابق ۱۸ صفر ۱۳۰۱ھ مکتوب نمبر ۳۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمها اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ مجھ کو آپ کا اخلاص بہت شرمندہ کر رہا ہے۔ خدا وند کریم آپ پ کو بہت ہی اجر بخشے اور یہ عاجز تفضلات الہیہ پر بہت بھروسہ رکھتا ہے اور یقیناً سمجھتا ہے کہ اُس کی رحمتیں اس اخلاص اور سعی کے صلہ میں آثار نمایاں دکھلائیں گی ۔ یہ عالم فانی تو کچھ چیز نہیں اور ہے