مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 582 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 582

مکتوبات احمد ۵۸۲ مکتوب نمبر ۳۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا آں مخدوم کا عنایت نامہ عین انتظاری کے وقت میں پہنچا۔ خدا وند کریم آں مخدوم کو مکروہات زمانہ سے اپنے ظل رحمت میں رکھے ۔ جس قدر آپ اس عاجز سے محبت رکھتے ہیں وہی محبت اور تعلق اس عاجز کو آپ سے ہے ۔ یہ سچ ہے کہ مقام تعلقات محبت میں انسان یہی چاہتا ہے کہ دیر تک اس دارفانی میں اتفاق ملاقات رہے۔ لیکن اس مسافر خانہ کی بنیا د نہایت ہی خام اور متزلزل ہے ۔اب تک اس عاجز پر جو مکشوف ہوا ہے اُن میں سے کوئی ایسا کشف نہیں جس میں طول عمر مفہوم ہوتا ہے بلکہ اکثر الہام ذومعنیین ہوتے ہیں ۔ جن کے ایک معنی کی رو سے تو قرب وفات سمجھا جاتا ہے اور دوسرے معنی اتمام نعمت ہیں ۔ اس بات کو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سے معنی مراد ہیں ۔ یہ الہام إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى اس قدر ہوا ہے جس کا خدا ہی شمار جانتا ہے۔ بعض اوقات نصف شب کے بعد فجر تک ہوتا رہا ہے اس کے بھی دو ہی معنی ہیں ۔ رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا اور وہ یہ ہے قُلْ لِضَيْفِكَ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ قُلْ لَا خِيْكَ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا اس کے معنی بھی دو ہی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے اس کو کہہ دے کہ میں تیرے پر اتمام نعمت کروں گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ میں وفات دوں گا ۔ معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے ۔ اس قسم کے تعلقات کے کم و بیش کوئی سے لوگ ہیں ۔ اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتے ہیں جن میں اپنی نسبت اور بعض احباب کی نسبت ۔ اُن کے عسر یسر کی نسبت ، اُن کے حوادث کی نسبت ، ان کی عمر کی نسبت ظاہر ہوتا رہتا ہے اور میرا اصول یہ ہے کہ انسانوں کو بالکل اپنے مولیٰ کی مرضی کے موافق رہنا چاہئے اور جو کچھ وہ اختیار کرے وہ بہتر ہے کیونکہ تمام خیر اسی بات میں ہے جو وہ اختیار کرے۔ دل میں ارادہ تو ہے کہ ایک دو روز کے لئے آپ کے شہر میں آؤں لا تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۴۸ ، ۷۵ کے تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۸۹ سے کوئی سہو کتابت ہے صحیح کئی“ ہے ۔ (مرتب)