مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page vi
۶ بار یک در بار یک امور پر بحث ہوتی تھی ۔ ایک عرصہ تک یہی انتظام رہا پھر منشی عبداللہ سنوری اور صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی حاضر ہونے لگے تو ان سے بعض خطوط کا جواب لکھوا دیا کرتے۔ رفتہ رفتہ جب سلسلہ وسیع ہوا اور خدا تعالیٰ کے اذن اور الہام سے آپ نے اپنے دعویٰ کا اعلان کر دیا اور خطوط بھی کثرت سے آنے لگے تب بھی اکثر خطوط کا جواب خصوصاً اپنے مخلص خدام کے خطوط کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ہی قلم سے لکھا کرتے تھے بلکہ بعض دوستوں کے ساتھ تو آپ کا یہ تعلق تھا کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک یا ان میں سے بعض کی زندگی کے آخری ایام تک اس التزام کو نبھایا کہ ان کے خطوط کا جواب خواہ ایک ہی سطر پر ہو اپنے ہی ہاتھ سے دیا کرتے ۔ بعض دوستوں کے متعلق نہ صرف محبت اور اخلاص کی بنا پر بلکہ احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ان کے نام کوئی کتاب یہ رسالہ یا اشتہار بھیجتے تو اپنے ہاتھ سے پیکٹ بناتے اور اپنے ہاتھ سے پتہ لکھتے اور ٹکٹ لگاتے اور رجسٹری کرا کر روانہ کرتے ۔ یہ ایک مستقل مضمون ہے جو کسی قدر تفصیل سے لکھا جانے والا ہے۔ اس وقت میں صرف ایک تمہیدی نوٹ کے طور پر لکھ رہا ہوں ۔ غرض جب دعوے کی عام اشاعت ہوئی اور خطوط کی کثرت ہو گئی ۔ آپ کی مصروفیت کی حدود سے ڈاک کا کام نکلنے لگا تو حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب ، حکیم فضل دین صاحب اور کبھی کبھار میرزا خدا بخش صاحب اس کام میں حصہ لیا کرتے تھے ۔ جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے قادیان آ گئے تو مستقلاً یہ کام ان کے سپرد ہو گیا اور ان کی اعانت کے لئے پیر افتخار احمد صاحب مقرر ہوئے ۔ بیعت یا درخواست ہائے دعا یا دوسرے عام خطوط کا جواب وہ ایک خاص ہدایت کے ماتحت لکھ دیا کرتے تھے اور دوسرے بعض اہم اور خاص خطوط کا جواب حضرت مخدوم الملۃ مولا نا عبدالکریم صاحب لکھا کرتے تھے ۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے زمانے کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ تھی جوان کے ساتھ ختم ہو گئی کہ وہ ہر ہفتے ہفتے کے تمام واقعات پر مشتمل ایک سرکلر لکھا کرتے تھے جس میں تازہ الہامات اور بعض تقریروں کے اہم اقتباسات اور ایسے امور درج ہوتے تھے جو ایمان اور