مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 577 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 577

محروم رکھنا ہے۔صادقوں کو ملنے نہ ملنے سے کچھ کام نہیں۔اگر بالفرض ہر روز پردہ غیب سے ہزار لعنت سنیں تو وہ اُس سے دل برداشتہ نہیںہوتے۔محبوب کی نسبت یہی محبوب ہے۔۔۱؎ مسجد میں ابھی کام سفیدی کا شروع نہیں ہوا۔خدا تعالیٰ چاہے گا تو انجام کو پہنچ جائے گا۔آج رات کیا عجیب خواب آئی کہ بعض اشخاص ہیں جن کو اس عاجز نے شناخت نہیں کیا۔وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد کے دروازے کی پیشانی پر کچھ آیات لکھتے ہیں۔ایسا سمجھا گیا کہ فرشتے ہیں اور سبز رنگ اُن کے پاس ہے جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں اور خط ریحانی میں جو پیچان اور مسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں۔تب اس عاجز نے اُن آیات کو پڑھنا شروع کیا جن میں سے ایک آیت یاد رہی اور وہ یہ ہے۲؎ اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے۔جس عمارت کو وہ بناتا ہے اُس کو کون مسمار کرے اور جس کو وہ عزت دینا چاہتا ہے اُس کو کون ذلیل کرے۔٭ ۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۷؍ذِی الحجہ ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر۳۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آں مخدوم کا خط پہنچا۔جس قدر آں مخدوم نے کوشش اور سعی اُٹھائی ہے اور اپنے نفس پر مشقّت اور تحمل مکروہات روا رکھا ہے یہ سب خداوند کریم کی ہی عنایت ہے تا آپ کو اُس کے عوض میں وہ اجر عطا فرماوے جس کا عطا ہونا اُنہیں کوششوں پر موقوف تھا۔جس کریم رحیم نے اس عاجز نالائق کو اپنے غیر متناہی احسانوں سے بغیر عوض کسی عمل اور محنت کے ممنون اور پرورش فرمایا ہے۔وہ محنت کرنے والوں کی محنت کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔خدا کی راہ میں انسان ایک ذرّہ بات منہ سے نہیں نکالتا اور ایک قدم زمین پر نہیں رکھتا جس کا اس کو ثواب نہیں دیا جاتا لیکن میں اس جگہ یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے جوش دلی کے باعث سے جو ایسے لوگوں کے پاس بھی جاتے ہیں جو ظنون فاسدہ اپنے دل پر رکھتے ہیں اور غرور اور استکبارِ نفس سے بھرے ہوئے ہیں۔یہ ہرگز نہیں ۱؎ الرحمٰن: ۳۰ ۲؎ یونس: ۱۰۸ ٭ اخبار الحکم نمبر۲۲ جلد۳۔۲۳ جون ۱۸۹۹ء