مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 576 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 576

ترقی دینا چاہتا ہے اس کی زندگی میں خود ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسے موقعے نکلتے آتے ہیں جن سے اُس کو سوال کرنے کا استحقاق پیدا ہو جاتا ہے۔قرآن شریف جو جامع تمام معارف اور حقائق ہے عبث طور پر نازل نہیں ہوا بلکہ جب حاجت پیش آئی نازل ہوا ہے اور ہر ایک آیت محکمہ اپنی ایک ضروری شان نزول رکھتی ہے۔والسلام بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب و دیگر صاحبان سلام برسد۔٭ بتاریخ ۴؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر۳۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔جن امور میں خلق اللہ کی بھلائی ہے، اُن کا دریافت کرنا مضائقہ نہیں۔صرف مجھے خوف تھا کہ تکلف نہ ہو کہ وہ اس راہ میں مذموم ہے اور مولوی گل حسن صاحب کا سوال خداوند کریم کی جناب میں کچھ سُوئِ ادب کی رائحہ رکھتا ہے۔اس لئے اُس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔بندۂ وفادار کو رُشد یا عدم رُشد سے کیا مطلب ہے۔شیخ مصلح الدین سَعدی شیرازی رحمۃ اللہ نے کیا اچھا کہا ہے۔من ایستادہ ام اینک بخدمتت مشغول مرا ازیں چہ کہ خدمت قبول یا نہ قبول اور گر نباشد بدوست رہ بُردن شرط عشق است در طلب مردن اس راہ کا سالک وہ شخص ہوتا ہے کہ وصال اور بقا سے کچھ مطلب نہ رکھے اور اُن تمام واقعات اور مکاشفات سے کچھ سروکار نہ ہو کہ جو سالکوں پر کھلتے ہیں۔کرامات اور خوارق عادت کا خواہاں نہ ہو اور مقامات واصلین کا جو یاں نہ ہو اور باایں ہمہ سعی اور مجاہدہ میں ہمت نہ ہارے اور خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے فی الواقع ایک ذلیل بندہ اپنے تئیں خیال کرتا رہے اور اپنی زندگی کا اصل مقصد اسی راہ میں جان دینا ٹھہراوے گو کچھ راہ پاوے یا نہ پاوے۔راستبازوں کا یہی راستہ ہے۔ان کو اس سے کیا کام کہ حضرت احدیّت سے اس بات کا پہلے تصفیہ کرلیویں کہ ہم کو آخر راہ ملے گا یا محض ٭ اخبار الحکم نمبر۲۲ جلد۳۔۲۳ جون ۱۸۹۹ء