مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 40

کہ اس کی قدرت اسباب مادی سے تجاوز نہیں کرتی، حقیقت میں اپنی بات کو آپ ردّ کرنا ہے کیونکہ اگر وہ فی حدِّ ذاتہٖ قادر ہے تو پھر کسی سہارے اور آسرے کا محتاج ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔کیا آپ کی پستکوں میں قادر اور سرب شکتی مان اسی کو کہتے ہیں جو بغیر توسل اسباب کے کارخانہ قدرت اس کی کا بند رہے۔اور نراہ اس کے حکم سے کچھ بھی نہ ہو سکے۔شاید آپ کے ہاں لکھا ہوگا۔مگر ہم لوگ تو ایسے کمزور کو خدا نہیں جانتے ہمارا تو وہ قادر خدا ہے کہ جس کی یہ صفت ہے کہ جو چاہا سو ہو گیا اور جو چاہے گا سوہوگا۔پھر باوا صاحب اپنے جواب میں مجھ کو فرماتے ہیں کہ جس طرح تم نے یہ مان لیا کہ خدا دوسرا خدا نہیں بنا سکتا اسی طرح یہ بھی ماننا چاہئے کہ خدا روح پیدا نہیں کر سکتا۔اس فہم اور ایسے سوال سے اگر میں تعجب نہ کروں تو کیا کروں؟ صاحبِ من! میں تو اس وہم کا کئی دفعہ آپ کو جواب دے چکا۔اب میں بار بار کہاں تک لکھوں۔میں حیران ہوں کہ آپ کو یہ بیّن فرق کیوں سمجھ میں نہیں آتا اور کیوں دل پر سے یہ حجاب نہیں اُٹھتا کہ جو روحوں کے پیدا کرنے کو دوسرے خدا کی پیدائش پر قیاس کرنا خیال فاسد ہے۔کیونکہ دوسرا خدا بنانے میں وہ صفت ازلی پرمیشور کی جو واحد لاشریک ہونا ہے نابود ہو جائے گی۔لیکن پیدائش ارواح میں کسی صفت واجب الوجود کا ازالہ نہیں بلکہ ناپید کرنے میں ازالہ ہے کیونکہ اس سے صفت قدرت کی، جو پرمیشور میں بالاتفاق تسلیم ہو چکی ہے، زاویہ اختفا میں رہے گی اور بپایۂ ثبوت نہیں پہنچے گی۔اس لئے کہ جب پرمیشور نے خود ایجاد اپنے سے بِلاتوسل اسباب کے کوئی چیز محض قدرت کاملہ اپنی سے پیدا ہی نہیں کی تو ہم کو کہاں سے معلوم ہو کہ اس میں ذاتی قدرت بھی ہے۔اگر یہ کہو کہ اس میں کچھ ذاتی قدرت نہیں تو اس اعتقاد سے وہ پَراَدھیں یعنی محتاج بالغیر ٹھہرے گا اور یہ بہ بداہت عقل باطل ہے۔غرض پرمیشور کا خالق ارواح ہونا تو ایسا ضروری امر ہے جو بغیر تجویز مخلوقیت ارواح کے سب کارخانہ خدائی کا بگڑ جاتا ہے لیکن دوسرا خدا پیدا کرنا صفت وحدت ذاتی کے برخلاف ہے، پھر کس طرح پرمیشور ایسے امر کی طرف متوجہ ہو کہ جس سے اس کی صفت قدیمہ کا بطلان لازم آوے اور نیز اس صورت میں جو روح غیر مخلوق اور بے اَنت مانے جائیں، کل ارواح صفت انادی اور غیر محدود ہونے میں خدا سے شریک ہو جائیں گی اور علاوہ اس کے پرمیشور بھی، اپنی صفت قدیم سے جو پیدا کرنا بِلا اسباب ہے، محروم رہے گا اور یہ ماننا پڑے گا کہ پر