مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 568 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 568

فردا پسِ فردا پر ڈالتا ہے اس کے حق میں مہلک ہے اور نیز صوفی کیلئے یہ بھی لازم ہے کہ اسی جہان میں اپنی نجات کے آثار نمایاں کا طالب ہو اور اپنے کام کے دن میں پہلے اپنی اُجرت کا خواستگار ہو۔فردا یعنی قیامت پر صوفی اپنا حساب نہیں ڈالتا اور نسیہ اور ادھار کا روا دار نہیں ہوتا بلکہ دست بدست مزدوری مانگتا ہے۔اور اس آیت شریفہ پر اُس کا عمل ہوتا ہے۔۔۱؎ پس صوفی ان علماء ظاہری کی طرح نہیں ہوتا کہ جو صرف ظاہری اعمال بطور عادت اور رسم کے بجا لا کر اور تزکیہ نفس اور تنویر قلب سے بکلّی محروم رہ کر پھر بہشت کی امیدیں باندھ رہے ہیں بلکہ صوفی اسی جہان میں اپنے بہشت کو دیکھنا چاہتا ہے اور صرف وعدوں پر قناعت نہیں کرتا۔تو صوفی عمل کی رو سے بھی اور اُجرت عمل کی رو سے بھی ابن الوقت ہے جو حفظ اوقات ہی سے اس کے سارے کام نکلتے ہیں اور حاضر الوقت نعمتوں کو پاتا ہے لیکن چونکہ ہنوز اپنی ہی قوتوں اور طاقتوں اور اخلاصوں اور صدقوں اور محنتوں اور مجاہدات پر اُس کا مدار ہے اور مسافر کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا اس کا کام ہے۔اس لئے وہ صاحبِ حال ہے، صاحبِ مقام نہیں۔کیونکہ حال وہ ہے جو تغیر پذیر ہو اور مقام وہ ہے جس کو ثبات اور قرار ہو۔سو صوفی ابھی مسافر کی طرح ہے۔ایک جگہ چھوڑتا ہے دوسری جگہ جاتا ہے۔دوسری چھوڑتا ہے تیسری جگہ جاتا ہے لیکن صافی وہ ہے جس کو بعد حصول فنا اَتم کے عنایاتِ الٰہیہ نے اپنی گود میں لے لیا ہے۔اب اس کو ان محنتوں اور مشقتوں سے کچھ غرض نہیں کہ جو صوفی کو پیش آتی ہیں کیونکہ وہ کاسات وصال سے بہرہ یاب ہو گیا ہے اور دستِ غیبی نے اُس کو ہر ایک بشریت کے لوث سے مصفّٰی اورمطہر کر دیا ہے اور جو اعمال دوسروں کیلئے بوجھ ہیں وہ اس کے حق میں سرور اور لذّت ہوگئے ہیں۔اور وہ تکلّفات حفظ اوقات اور دوام مراقبہ و مشغولی سے برترو اعلیٰ ہے بلکہ  ۲؎ میں داخل ہے اور اس کا سونا اور اس کا کھانا اور اُس کا ہنسنا اور کھیلنا اور دنیا کے کاموں کو بجا لانا سب عبادت ہے کیونکہ وہ منقطع اور مفرد ہے اور عنایات الٰہیہ نے اُس کو اُس کے نفس کے پنجہ سے چھین لیا ہے اور اس کی سرشت کو بدلا دیا ہے۔اب اُس کا غیر پر قیاس کرنا اور غیر کا اُس پر قیاس کرنا ناجائز ہے۔صوفی بھی اُس کو نہیں پہچان سکتا کیونکہ وہ بہت ہی دور نکل گیا ہے اور وہ صاحب مقام ہے اور ۱؎ بنی اسرآء یل: ۷۳ ۲؎ النُّور: ۳۸