مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 39

مکتوبات احمد ۳۹ جلد اول دے دیا ہے ۔ جب آپ بنظر انصاف پر چہ مذکور کو ملاحظہ فرمائیں گے تو آپ کی تسلی کامل ہو جائے گی اور خود ظاہر ہے کہ خدا تو وہی ہونا چاہئے جو موجد مخلوقات ہو نہ یہ کہ زور آور سلاطین کی طرح صرف غیروں پر قابض ہو کر خدائی کرے۔ اور اگر آپ کے دل میں یہ شک گزرتا ہے کہ پر میشور جو اپنی نظیر نہیں پیدا کر سکتا شاید اسی طرح ارواح کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہ ہوگا ۔ پس اس کا جواب بھی پرچہ مذکور ۹ فروری میں پختہ دیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا ایسے افعال ہرگز نہیں کرتا جن سے اُس کی صفات قدیم کا زوال لازم آوے، جیسے وہ اپنا شریک نہیں پیدا کر سکتا ۔ اپنے آپ کو ہلاک نہیں کر سکتا کیونکہ اگر ایسا کرے تو اُس کی صفات قدیمہ جو وحدت ذاتی اور حیات ابدی ہے زائل ہو جائیں گی ۔ پس وہ قدوس خدا کوئی کام برخلاف اپنی صفات از لیہ کے ہر گز نہیں کرتا ۔ باقی سب افعال پر قادر ہے۔ پس آپ نے جو روحوں کی پیدائش کو شریک الباری کی پیدائش پر قیاس کیا تو خطا کی ۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ آپ کا قیاس مع الفارق ہے۔ ہاں اگر یہ ثابت کر دیتے کہ پیدا کرنا ارواح کا بھی مثل پیدا کرنے نظیر اپنی کے خدا کی کسی صفت عظمت اور جلال کے برخلاف ہے تو دعوئی آپ کا بلا شبہ ثابت ہو جاتا۔ پس آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ یہ ظاہر کرنا چاہئے کہ خدا نے روح کہاں سے پیدا کئے ۔اس تقریر سے صاف پایا جاتا ہے آپ کو خدا کے قدرتی کاموں سے مطلق انکار ہے اور اس کو مثل آدم زاد کے محتاج باسباب سمجھتے ہیں۔ اور اگر آپ کا اس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح پر میشور روحوں کو پیدا کر لیتا ہے تو اس وہم کے دفع میں پہلے ہی لکھا گیا تھا کہ پرمیشور کی قدرت کاملہ میں ہرگز یہ شرط نہیں کہ ضرور انسان کی سمجھ میں آجایا کرے۔ دنیا میں اس قسم کے ہزار ہا نمونہ موجود ہیں کہ قدرت مدیر کہ انسان کی ان کی کنہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی اور علاوہ اس کے ایک امر کا عقل میں نہ آنا اور چیز ہے اور اس کا محال ثابت ہونا اور چیز ۔ عدم ثبوت اس بات کا کہ خدا نے کس طرح روحوں کو بنالیا اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا کہ خدا سے روح نہیں بن سکتے تھے کیونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ کیا ممکن نہیں جو ایک کام خدا کی قدرت کے تحت داخل تو ہو لیکن عقل ناقص ہماری اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے؟ بلکہ قدرت تو حقیقت میں اسی بات کا نام ہے جو داغ احتیاج اسباب سے منزہ اور پاک اور ادراک انسانی سے برتر ہو۔ اول خدا کو قادر کہنا اور پھر یہ زبان پر لانا