مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 553 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 553

اور اُس کے غیر کی طرف متوجہ ہے۔وجہ یہ کہ رسم اور عادات بھی ماسوا اللہ ہے اور ہر یک ماسوا اللہ خدا سے دُور ڈالتا ہے اور سلامتی قلب میں خلل انداز ہے۔سو سالک کے لئے جو بات سب سے پہلے لازم ہے وہ یہی ہے کہ رسم اور عادات سے باہر ہو اور پھر خلوص نیت سے ۱؎ پر عمل کرے تا اپنے فرض سے شفا پاوے اور ایمانِ حقیقی سے حصہ حاصل کرے۔مگرافسوس کہ بہت سے علماء ظاہری اسی سے تباہ ہو رہے ہیں کہ رسوم اور عادات کے رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے مرتے ہیں اور جس حقیقت اور حق بینی سے انسان کا دل منور ہوتا ہے اور جس دولت اور سعادت سے باطنی افلاس دور ہوتا ہے اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔کیا بدقسمتی ہے۔ہائے! ہائے! خلق و عالم جملہ در شور و شر اند عشق بازاں در مقام دیگر اند گر دلا زین کوچہ بیروں نگذریم ہم سگان کوچہ از ما بہتراند خداایسا نہیں کہ دھوکا کھا سکے۔اس کی دلوں پر نظر ہے اور حقیقتوں پر نگاہ ہے۔وہ رسموں اور عادتوں سے ہرگز خوش نہیں ہوتا اور جب تک بندہ مقام اخلاص کا حاصل نہ کرے۔یعنی مرنے سے پہلے ہی نہ مرے اور آفاقی اور انفسی شرکوں سے بکلّی باہر نہ آجائے تب تک الطافِ الٰہیہ اس کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہوتیں۔تب ہی کمال ایمان میسر آتا ہے کہ جب وہ موت کہ جس کو ابھی میں نے اخلاص سے تعبیر کیا ہے انسان منظور کر لیتا ہے اور ۲؎ کے گروہ میں داخل ہو جاتاہے۔اور حقیقت اسلام بھی تبھی اپنا چہرۂ مصفّا دکھاتی ہے کہ جب یہ موت حاصل ہو جائے۔حق تعالیٰ ہم کو اور آپ کو اور ہر ایک کو جو طالب ہے اس اخلاص سے بہرہ مند کرے۔زمانہ سخت زہرناک ہوائیں چلا رہا ہے جس سے تمام کاروبار منقلب ہوا جاتا ہے۔ہر یک بات مالک حقیقی کے اختیار میں ہے۔ہم عاجز بندوں کا کام عبودیت ہے۔فتح اور شکست سے مطلب نہیں۔عبودیت سے مطلب ہے، اس راہ میں جنہوں نے بہت سی خدمتیں کیں پھر بھی وہ سیر نہ ہوئے۔پھر ہمیں کیونکر آرام ہو جنہوں نے اب تک کچھ بھی نہیں کیا۔سو ہمارا سب غم و حزن خدا کے سامنے ہے۔ابھی یہ حال ہے کہ جو صرف بیرونی حملوں پر کفایت نہیں بلکہ بعض ناشناس بھائی اندرونی حملہ بھی کر رہے ہیں لیکن ہم عاجز بندوں ۱؎ الحشر: ۸ ۲؎ المائدۃ: ۵۵