مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 552
مکتوبات احمد ۵۵۲ جلد اول غریق ورطة بحر محبت نه بر مهرش نظر باشد نه برکیں بگوش عاشق از لب ہائے دلدار چناں نفریں عزیز آید کہ تحسیں چناں رویش خوش افتد از سر عشق کہ قرباں میکند بروے دل و دیں شب و روزش بدیں سرکار باشد دل و جانش شود آن یار شیریں بسوزد هر چه غیر یار باشد ہمیں این عشق را رسم است و آئین اور اس عاجز کا یہ مصرع کہ ( در شمین فارسی ) قربان میکند بروی دل و دین یہ معنی رکھتا ہے کہ قبل از جذ بہ عشق جو کچھ انسان کے دل میں رسوم اور عادات بھری ہوئی ہوتی ہیں اور جو کچھ جہل مرکب کی باتیں اور پُر تعصب خیالات اس کے سینہ میں جمعے ہوتے ہیں ۔ اصل میں وہی اس کا دین ہوتا ہے جس کو کسی حالت میں چھوڑ نا نہیں چاہتا اور جب جذبۂ عشق اس پر غالب آتا ہے تو وہ خیالات کہ جو تپ دق کی طرح رگ وریشہ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں بآسانی چھوٹ جاتے ہیں ۔ اور پھر بعد اس کے عشق الہی ایک پاک دین کی تعلیم کرتا ہے کہ جو عادات اور رسم کی آلودگی سے منزہ ہے اور تعصبات کے لوث سے پاک ہے ۔ پس نافع اور مبارک دین وہی ہوتا ہے جو عشق کے بعد آتا ہے اور جو عشق کے اول خیالات ہیں ، وہ بہت سے زہروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ اس لائق ہیں کہ عشق پر فدا کئے جائیں اور اُن کے عوض میں وہ پاک خیال کہ جو عشق کے صافی - چشمہ سے نکلے ہیں اور جو ہر ایک تعصب اور رسم اور عادات سے منزہ ہیں حاصل کئے جائیں ۔ اور یہ ۔ خیالات ایسی سختی سے نفس پر قابض ہوتے ہیں کہ بغیر جذبہ عشق کے ہرگز ممکن ہی نہیں کہ اُٹھ سکیں ۔ مدار کار جذ بہ عشق پر ہے جو قلب پر مستولی ہوتا ہے۔ اور جب وہ مستولی ہوتا ہے تو نفس اپنی اندرونی آلائش سے پاک ہو جاتا ہے اور نفس کے چھپے ہوئے جو عیب تھے اُس سے دور ہوتے ہیں کہ جب عشق الہی کی بھڑکتی ہوئی آگ دل پر وارد ہوتی ہے۔ تو اعمالِ صالحہ جن پر کشود کار موقوف ہے تب ہی صادر ہوتے ہیں کہ جب اُن کو حرکت دینے والا عشق ہوتا ہے کوئی اور غرض فاسد نہیں ہوتی اور مجرد اعمال صوری اور عبادات رسمی سے کوئی عقدہ نہیں کھلتا بلکہ جب تک سالک رسم اور عادات کی بد بو دار مزبلہ سے باہر نہیں آتا مورد غضب الہی رہتا ہے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے منہ پھیر رہا ہے