مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 552 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 552

غریق ورطۂ بحر محبت نہ بر مہرش نظر باشد نہ برکیں بگوش عاشق ازلب ہائے دلدار چناں نفریں عزیز آید کہ تحسیں چناں رویش خوش افتد از سر عشق کہ قرباں میکند بروے دل و دیں شب و روزش بدیں سرکار باشد دل و جانش شودآں یار شیریں بسوزد ہر چہ غیر یار باشد ہمیں ایں عشق را رسم است و آئین اور اس عاجز کا یہ مصرع کہ (درثمین فارسی) قربان میکند بروے دل و دین یہ معنی رکھتا ہے کہ قبل از جذبہ عشق جو کچھ انسان کے دل میں رسوم اور عادات بھری ہوئی ہوتی ہیں اور جو کچھ جہل مرکب کی باتیں اور پُر تعصب خیالات اس کے سینہ میں جمعے ہوتے ہیں۔اصل میں وہی اس کا دین ہوتا ہے جس کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا اور جب جذبۂ عشق اس پر غالب آتا ہے تو وہ خیالات کہ جو تپ دِق کی طرح رگ و ریشہ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں بآسانی چھوٹ جاتے ہیں۔اور پھر بعد اس کے عشق الٰہی ایک پاک دین کی تعلیم کرتا ہے کہ جو عادات اور رسم کی آلودگی سے منزہ ہے اور تعصبات کے لوث سے پاک ہے۔پس نافع اور مبارک دین وہی ہوتا ہے جو عشق کے بعد آتا ہے اور جو عشق کے اوّل خیالات ہیں، وہ بہت سے زہروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ اس لائق ہیں کہ عشق پر فدا کئے جائیں اور اُن کے عوض میں وہ پاک خیال کہ جو عشق کے صافی چشمہ سے نکلے ہیں اور جو ہر ایک تعصب اور رسم اور عادات سے منزہ ہیں حاصل کئے جائیں۔اور یہ خیالات ایسی سختی سے نفس پر قابض ہوتے ہیں کہ بغیر جذبۂ عشق کے ہرگز ممکن ہی نہیں کہ اُٹھ سکیں۔مدارِ کار جذبہ عشق پر ہے جو قلب پر مستولی ہوتا ہے۔اور جب وہ مستولی ہوتا ہے تو نفس اپنی اندرونی آلائش سے پاک ہو جاتا ہے اور نفس کے چھپے ہوئے جو عیب تھے اُس سے دور ہوتے ہیں کہ جب عشق الٰہی کی بھڑکتی ہوئی آگ دل پر وارد ہوتی ہے۔تو اعمالِ صالحہ جن پر کشود کار موقوف ہے تب ہی صادر ہوتے ہیں کہ جب اُن کو حرکت دینے والا عشق ہوتا ہے کوئی اور غرض فاسد نہیں ہوتی اور مجرد اعمال صَوری اور عبادات رسمی سے کوئی عقدہ نہیں کھلتا بلکہ جب تک سالک رسم اور عادات کی بَدبُودار مزبلہ سے باہر نہیں آتا مورد غضبِ الٰہی رہتا ہے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے منہ پھیر رہا ہے