مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 551
پیروی کرنا اور بندگی اور فرمانبرداری کی حد پر نہ ٹھہرنا۔یہ تو وہ سب حجب ہیں جو بدیہی ہیں۔جو عام طور پر ہر ایک کو سمجھ آ سکتے ہیں۔بشرطیکہ فطرت صحیحہ میں کچھ خلل نہ ہو۔دوسری قسم کے حجاب وہ ہیں جو نظری ہیں۔جن کے سمجھنے کے لئے کامل درجہ پر عقل سلیم اور فہم مستقیم چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اسماء اور صفاتِ الٰہیہ تک رابطہ محدود رہے اور ذات بحت سے حقیقی طور پر تعلق حاصل نہ ہو۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی عبادت بغرض حصول اُس کے انعام و اکرام کے کرتا ہے وہ ہنوز اسماء و صفاتِ الٰہیہ پر نظر رکھتا ہے اور محبت ذاتی کے شربت عذب سے ابھی کچھ اُس کو نصیب نہیں اور اس کا رابطہ معرضِ خطر میں ہے کیونکہ اسماء و صفاتِ الٰہیہ ہمیشہ ایک ہی رنگ میں تجلی نہیں فرماتیں۔کبھی جلال اور کبھی جمال اور کبھی قہر اور کبھی لطف ہوتا ہے۔غرض ان دونوں قسموں کے حجابوں سے جو شخص باہر آجائے اور اپنے مولیٰ حقیقی سے ذاتی طور پر محبت پیدا کرے اور اس محبت کی راہ میں کوئی روک نہ رہے اور نہ منجملہ ظاہری اور باطنی اور آفاقی اور انفسی حجابوں کے کوئی حجاب بھی نہ رہے تو یہ وہ مرتبہ ہے جس کو تبتلتام کہناچاہئے۔اس مرتبہ کا خاصہ ہے کہ انعام اور ایلام محبوب کا ایک ہی رنگ میں دکھائی دیتا ہے بلکہ بسا اوقات ایلام سے اور بھی زیادہ محبت بڑھتی ہے اور پہلی حالت سے آگے قدم بڑھتا ہے۔بات یہ ہے کہ جب محبت ذاتی کی موجیں جوش میںآتی ہیںتو اسماء اور صفات پر نظر نہیں رہتی اور انسان کا سارا آرام محبوب حقیقی کی یاد میں ہو جاتا ہے اور حبُّ اللہ کا تعلق ذات باری کی طرح بیچوںاور بیچگوں ہوتا ہے اور محب صادق کسی کو اس بات کی وجہ نہیں بتلا سکتا کہ کیوں وہ اس محبوب سے محبت رکھتا ہے اور کیوں اس کیلئے بدل و جان فدا ہو رہا ہے۔اور اس محبت اور اطاعت اور جاں فشانی سے اُس کی غرض کیا ہے کیونکہ وہ ایک جذبہ الٰہی ہے جو بطور موہبت خاصہ محب صادق پر پڑتا ہے۔کوئی مصنوعی بات نہیں جس کی وجہ بیان ہو سکے۔یہی انقطاعِ حقیقی اور تبتّلِ تام کی حالت ہے اور یہی وہ موت روحانی ہے جس کی اہل اللہ کے نزدیک فناء سے تعبیر کی جاتی ہے کیونکہ اس مرتبہ پر نفس اِمّارہ کا بکلّی تزکیہ ہو جاتا ہے اور بباعث محبتِ ذاتی کے اپنے مولیٰ کریم کی ہر ایک تقدیر سے موافقتِ تامہ پیدا ہو جاتی ہے اور جو کچھ اس دوست کے ہاتھ سے پہنچتا ہے پیار ا معلوم ہوتا ہے اور اس کا قہر اور لطف سب لطف ہی دکھائی دیتا ہے اور حقیقت میں وہ سب لطف ہی ہوتا ہے۔پھر محبِ صادق نہ قہر سے غرض رکھتا ہے نہ لطف سے۔