مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 545 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 545

مخلوق پرستی کی تعلیم کی، اور جو لوگ کچھ توحید پسند کرتے تھے اُنہوں نے توحید میں گفتگو کی لیکن جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں پروفیسر ولسن صاحب کی یہ رائے ہے کہ جہاں تک ہم نے ویدوں کو دیکھا ہے ان تمام مواضع میں مخلوق پرستی بھری ہوئی ہے اور خالق الکائنات کا نام و نشان۔(نہیں) اب قصہ کوتاہ یہ کہ جن ویدوں کا یہ حال ہے کہ باتفاق تمام محققین کے مخلوق پرستی کی تعلیم کرتے ہیں۔اُن کی تعریف کرتے وقت خدا سے ڈرنا چاہئے اور جو منشی صاحب لکھتے ہیں کہ ویدوں میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی بشارت ہے ان باتوں کو منشی صاحب پوشیدہ رکھیں تو بہتر ہے۔تامخالف خواہ نخواہ ہنسی نہ کریں۔ان دنوں میں وید کوئی ایسی چیز نہیں کہ کسی جگہ دستیاب نہ ہو۔جا بجا کتب فروشوں کی دوکان میں پائے جاتے ہیں۔صدہا آدمی وید خوان ہیں۔یہاں تک کہ اس عاجز کے گاؤں کے قریب ایک دہقان چاروں وید پڑھ کر آ گیا ہے اور وید اُس کے پاس موجود ہیں۔کئی دفعہ اُس کا مجھ سے مباحثہ بھی ہوا ہے۔رگوید اس عاجز کے پاس بھی موجود ہے اور پنڈت دیانند اور بعض اور پنڈتوں کے کچھ کچھ اجزا وید بھاش کے بھی موجود ہیں اور انگریزوں نے بھی بڑی محنت سے ویدوں کو ترجمہ کیا ہے۔منشی صاحب کا خیال مجھ کو اس قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ جو ابوالفضل نے آئین اکبری میں ایک قصہ لکھا ہے کہ اکبر بادشاہ کے وقت دکھن کی طرف سے ایک پنڈت آیا اور اُس کا دعویٰ تھا کہ ویدوں میں کلمہ شریف لکھا ہوا ہے۔بادشاہ نے بڑے بڑے پنڈت اکٹھے کئے، تا دیکھیں کہ اگر فی الحقیقت کلمہ طیبّہ وید میں لکھا ہوا ہے تو ہندوؤں کی ہدایت کے لئے یہ بڑی حجت ہوگی۔جب پنڈت جمع ہوئے اور اُن کو وہ موقع دکھایا گیا تو اُس کے کچھ اور ہی معنی نکلے۔جس کو کلمہ طیبہ سے کچھ علاقہ نہیں۔تب بڑی ہنسی ہوئی اور وہ پنڈت جو ایسا دعویٰ کرتا تھا بڑا شرمندہ ہوا۔آپ کی تاکید کی وجہ سے یہ لکھا گیا۔نواب محمد علی خان صاحب کو کسی اور موقعہ پر اس عاجز کی طرف سے تعزیت کریں۔دنیا مصیبت خانہ ہے۔خداوند کریم اس مصیبت عظمیٰ کا اُن کو اجر بخشے اور صبر جمیل عطا فرماوے۔۱۱؍ جولائی ۱۸۸۳ء مطابق ۶؍ رمضان ۱۳۰۰ھ