مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 535
مکتوبات احمد ۵۳۵ جلد اول سے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے نبی کریم کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں اور اُس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریم سچی دوستی اور محبت ہو اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگی جائیں کہ جو در و دشریف میں مذکور ہیں ۔ اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔ جو شخص ذاتی محبت سے کسی کیلئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ باعث علاقہ ذاتی محبت کے اُس شخص کے وجود کی ایک جز ہو جاتا ہے۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔ مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہوا اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہوا اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں ۔ دوسرے او ر ا د بھی بدستور محفوظ رکھیں ۔ بیکاری کچھ چیز نہیں ہے ہر وقت سرگرمی کی توفیق خداوند کریم سے مانگنی چاہئے ۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و قاضی خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچا دیں ۔ ۱۲ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۶ شعبان ۱۳۰۰ھ الحکم ۱۵ مئی ۱۸۹۹ ء صفحہ ۷ ♡ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆