مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 534
۔۱؎ آج قبل اس خط کے یہ الہام ہوا۔کَذَبَ عَلَیْکُمُ الْخَبِیْثُ۔کَذَبَ عَلَیْکُمُ الْخِنْزِیْرُ۔عِنَایَتُ اللّٰہِ حَافِظُکَ۔اِنِّیْ مَعَکَ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔۲؎ ۔۳؎ ۔۴؎ ان الہامات میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی ناپاک طبع آدمی اس عاجز پر کچھ جھوٹ بولے گا یا جھوٹ بولا ہو۔مگر عنایت الٰہی حافظ ہے۔اب سوچنا چاہئے کہ جب ہر ایک موذی اور معاند اور دروغ گو اور بہتان طراز کے شر سے خود خداوندکریم بچانے کا وعدہ کرتا ہے تو پھر کس سے بجز اُس کے خوف کریں۔چند روز ہوئے کہ خداوندکریم کی طرف سے ایک اور الہام ہوا تھا۔کچھ حصہ اُس میں سے پہلے بھی الہام ہوچکا ہے۔مگر یہ الہام مفصل ہوا اور اُس سے خداوند کریم کی جو کچھ عنایت اس عاجز اور اس عاجز کے دوستوں پر ہے ظاہر ہے اور وہ یہ ہے۔ ۵؎ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔وَقَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَجِیْبٌ یَجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ۔۶؎ ۔۷؎ اور یہ آیت کہ ۸؎ باربار الہام ہوئے اور اس قدر متواتر ہوئے کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے اور اس قدر زور سے ہوئے کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہے۔اس سے یقینا معلوم ہوا کہ خداوندکریم اُن سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا۔اور اُن کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا۔اور اس عاجز کے بعد کوئی ایسا مقبول آنے والا نہیں جو اس طریق کے مخالف قدم مارے۔اور جو مخالف قدم مارے گا اُس کو خدا تباہ کرے گا اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی۔یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلّف نہیں کرے گا اور کفر کے لفظ سے اس جگہ شرعی کفر مراد نہیں بلکہ صرف انکار ہی مراد ہے۔غرض یہ وہ سچا طریق ہے جس میں ٹھیک ٹھیک حضرت نبی کریم کے قدم پر قدم ہے۔اللھم صلّ علیہ وآلہٖ وسلّم۔آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں اور جیسا کوئی اپنے پیارے کیلئے ۱؎ العنکبوت: ۳ ۲؎ تذکرہ صفحہ ۴۸،۴۹۔ایڈیشن چہارم ۳؎ الزُّمر: ۳۷ ۴؎ الاحزاب: ۷۰ ۵؎ اٰلِ عمران: ۳۲ ۶؎ تذکرہ صفحہ۴۸۔ایڈیشن چہارم ۷؎ اٰلِ عمران: ۱۴۱ ۸؎ اٰلِ عمران: ۵۶