مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 532

۱؎ نیچریوں کا جو آپ نے حال لکھا ہے یہ لوگ حقیقت میں دشمن دین ہیں یُرِیْدُوَْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔۲؎ لیکن خداوند قادر مطلق کے کام عقل اور قیاس سے باہر ہیں۔وہ ہمیشہ عاجزوں اور ضعیفوں اور کمزوروں کو متکبروں اور مغروروں پر غالب کرتا رہا ہے اور آخر کار اُنہیں کی فتح ہوتی رہی ہے جو خدا کے لئے متکبروں کے ہاتھ سے ستائے گئے۔اور اگر خدا چاہتا تو ستائے نہ جاتے لیکن یہ اس لئے ضروری ہوا کہ تا خداوند کریم اپنے الطافِ خفیہ کو بصورت جلال اُن پر متجلّی کرے اور نفس کے پوشیدہ عیبوں سے اُن کو خلاصی بخشے اور اُن پر اُس کا تنہا ہونا، بیکس ہونا، غریب ہونا، ذلیل ہونا، بے اقتدار ہونا ثابت کر کے عبودیتِ حقیقی کے اعلیٰ مراتب تک پہنچاوے۔کسی بشر کی طاقت نہیں کہ جو اپنے منہ کی واہیات باتوں سے خدا تعالیٰ کے ارادہ کو نافذ ہونے سے روک رکھے۔اگر اُس کی حکمت کا تقاضا نہ ہوتا تو مزاحمین اور مخالفین کا وجود نابود ہو جاتا۔پر ان لوگوں کے وجود میں گروہ ثانی کے لئے بڑے بڑے مصالحہ ہیں اور بعض کمالات اُن کے اسی پر موقوف ہیں کہ ایسے لوگ بھی موجود ہوں۔درود شریف پڑھنے کی مفصل کیفیت پہلے لکھ چکا ہوں۔وہی کیفیت آپ لکھ دیں۔کسی تعداد کی شرط نہیں۔اس قدر پڑھا جائے کہ کیفیت صلوٰۃ سے دل مملو ہو جائے اور ایک انشراح اور لذت اور حیواۃ قلب پیدا ہو جائے۔اور اگر کسی وقت کم پیدا ہو تب بھی بے دل نہیں ہونا چاہئے اور کسی دوسرے وقت کا منتظر رہنا چاہئے اور انسان کو وقت صفا ہمیشہ میسر نہیں آسکتا۔سو جس قدر میسر آوے اُس کو کبریت اَحمر سمجھے اور اُس میں دل و جان سے مصروفیت اختیار کرے۔پہلے اس سے آپ کی طرف ایک خط لکھا گیا تھا۔سو جیسا کچھ اُس میں لکھا گیا تھا آپ مبلغ(پچاس) روپیہ بھیج دیں۔بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب سلام مسنون۔۲؍ جون ۸۳ء مطابق ۲۵؍ رجب ۱۳۰۰ھ ۱؎ الجمعۃ: ۵ ۲؎ النَّسآء: ۱۵۱