مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 531
کی استعداد زیادہ رکھتی ہے۔اسی طرح جو شخص صاحب قوتِ عشقیہ ہے وہ خلق اللہ کیلئے حکمِ والدین رکھتا ہے اور خواہ نخواہ دوسروں کا غم اپنے گلے ڈال لیتا ہے کیونکہ قوتِ عشقیہ اُس کو نہیں چھوڑتی اور یہ خداوندکریم کی طرف سے ایک انتظامی بات ہے کہ اُس نے بنی آدم کو مختلف فطرتوں پر پیدا کیا ہے۔مثلاً دنیا میں بہادروں اور جنگجو لوگوں کی ضرورت ہے سو بعض فطرتیں جنگجوئی کی استعداد رکھتی ہیں۔اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے کہ جن کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوا کرے۔سو بعض فطرتیں یہی استعداد لے کر آتی ہیں اور قوت عشقیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔فَالْحَمْدُلِلّٰہِ علٰی الآء ظاہرھا و باطنھا۔مولوی صاحب اگر رسالہ بھیج دیں تو بہتر ہے۔شاہ دین صاحب رئیس لودہیانہ کی طرف اُنہیں دنوں میں کتاب بھیجی گئی۔جب آپ نے لکھا تھا مگر اُنہوں نے پیکٹ واپس کیا اور بغیر کھولنے کے اوپر بھی لکھ دیا کہ ہم کو لینا منظور نہیں۔چونکہ ایک خفیف بات تھی اس لئے آپ کو اطلاع دینے سے غفلت ہوگئی۔آپ کوشش میں توکل کی رعایت رکھیں اور اپنے حفظِ مرتبت کے لحاظ سے کارروائی فرماویں اور جو شخص اس کام کا قدر نہ سمجھتا ہو یا اہلیت نہ رکھتا ہو اُس کو کچھ کہنا کہانا مناسب نہیں۔۲۱؍مئی ۱۸۸۳ء مطابق رجب ۱۳۰۰ھ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۱۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ھٰذاآن مخدوم کا سعی اور کوشش کیلئے جالندھر میں تشریف لے جانا خط آمدہ آں مخدوم سے معلوم ہوا۔خداوند تعالیٰ ان کوششوں کو قبول فرماوے۔جس آیت کو ایک مرتبہ بنظر کشفی دیکھا گیا تھا۔ِ۔۱؎ اس شجرہ طیبّہ کے آثار ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔۱؎ ابراہیم: ۲۵