مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 520 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 520

میں آپ کے سوال کا جواب لکھتا ہوں۔آپ نے حالت فناء فی الفناء کی یہ تعریف لکھ کر کہ وہ ایک ایسی حالت ہے کہ جس میں شعور سے بھی بے شعوری ہوتی ہے۔یہ سوال پیش کیا ہے کہ اس مرتبہ فناء میں کہ جو چہارم مرتبہ منجملہ مراتب فنا ہے اور حالت سُکْرِیّت میں کیا فرق ہے اور سُکْرِیّت سے مراد آپ نے خواب غرقی لی ہے۔یعنی ایسا سونا جس میں کچھ خبر نہ رہے۔سو جو کچھ خدا نے میرے دل میں اس کا جواب ڈالا ہے وہ یہ ہے کہ سکریت اور فناء الفنا میں موجب اور علّت کا فرق ہے یعنی سُکْرِیّت کی حالت میں موجب اور علّت ایک ظلمت ہے۔جو سُکْرِیّت کے پیدا ہونے کا باعث ہے۔وجہ یہ کہ سُکْرِیّت اسی سے پیدا ہوتی ہے کہ رطوبت مزاجی دماغ پر سخت غلبہ کر لیتی ہے یہاں تک کہ دماغی قوتوں کو ایسا دبا لیتی ہے کہ انسان بے ہوش ہو کر سو جاتا ہے اور کچھ ہوش نہیں رہتا۔پس وہ چیز جس سے سُکْرِیّت وجود پکڑتی ہے۔ایک ظلمت ہے جو اپنی اصل حقیقت میں مغائر اور منافی حواسِ انسانی کی ہے۔جس کا غلبہ ایک ظلمانی حالت نفس پر طاری کر دیتا ہے اور آلات احساس کو اس قدر تعطل اور بیکاری میں ڈالتا ہے کہ اُن کو عجائبات روحانی کا ماجرا کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔لیکن فناء فی الفناکی حالت کا موجب اور علّت یعنی سبب ایک نور ہے۔یعنی تجلیات صفاتِ الٰہیہ جو بعض اوقات بعض نفوس خاصہ میں یکلخت ایک ربودگی پیدا کرتے ہیں جس کے باعث سے شعور سے بے شعوری ہوجاتی ہے۔جیسے ایک نہایت لطیف اور تیز عطر بکثرت کسی مکان میں رکھا ہوا ہو۔تو ضعیف الدماغ آدمی کی بعض اوقات قوتِ شامہ اس کثرت خوشبو سے مغلوب ہو کر ایسی بے حس ہو جاتی ہے کہ کچھ شعور اُس خوشبو کا باقی نہیں رہتا۔غرض سُکْرِیّت کی حالت کے پیدا ہونے کیلئے مؤثر اور موجب ایک ظلمت ہے اور فنا فی الفناء کی حالت کے پیدا ہونے کے لئے مؤثر اور موجب ایک نور ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ چشمِ بینا کیلئے دو۲ طور کے مانع رؤیت ہوتے ہیں۔یعنی دو سبب سے ایک سوجاکھے انسان کی آنکھ دیکھنے سے رہ جاتی ہے۔ایک تو سخت اندھیرا جس کی وجہ سے نورِ بینائی محجوب ہو جاتا ہے اور دیکھنے سے رک جاتا ہے اور کچھ دیکھ نہیں سکتا۔یہ حالت تو سُکْرِیّت کی حالت سے مشابہ ہے۔دوسر ی مانع بصارت سخت روشنی ہے کہ جو بوجہ اپنی شدت اور تیزی شعاع کے آنکھوں کو رؤیت کے فعل سے روکتی ہے اور دیکھنے سے بند کر دیتی ہے جیسے یہ صورت اس حالت میں پیش آتی ہے کہ جب عضو بصارت کو ٹھیک ٹھیک سورج کے مقابلہ پر رکھا جائے یعنی جب آنکھوں کو آفتاب کے سامنے کیا