مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 518 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 518

کہ جو دماغ پر طاری ہوتی ہے۔حواس ظاہری و باطنی اپنے کاروبار معمولی سے معطل ہو جاتے ہیں۔پس جب خواب کو ّتعطل حواس لازم ہے تو ناچار جو علم اور امتیازاور تیَقّظ بذریعہ حواس انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ حالتِ خواب میں بباعث تعطل حواس نہیں رہتا۔کیونکہ جب حواس بوجہ غلبہ رطوبتِ مزاجی معطل ہو جاتے ہیں تو بالضرورت اُس فعل میں بھی فتور آ جاتا ہے۔پھربعلّت اس فتور کے انسان نہیں سمجھ سکتا کہ مَیں خواب میں ہوں یا بیداری میں۔لیکن ایک اور حالت ہوتی ہے کہ جس سے اربابِ طلب اور اصحابِ سلوک کبھی کبھی متمتع اور محظوظ ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ بباعث دوام مراقبہ و حضور و استیلاء شوق و غلبۂ محبت ایک حالت غیبتِ حواس اُن پر وارد ہو جاتی ہے۔جس کا یہ باعث نہیں ہوتا کہ دماغ پر رطوبت مستولیٰ ہو۔بلکہ اس کا باعث صرف ذکر اور شہود کا استیلاء ہوتا ہے۔اُس حالت میں چونکہ تعطل حواس بہت کم ہوتا ہے۔اس جہت سے انسان اس بات پر متنبہ ہوتا ہے کہ وہ کسی قدر بیدار ہے۔خواب میں نہیں۔اور نیز اپنے مکان اور اُس کی تمام وضع پر بھی اطلاع رکھتا ہے۔یعنی جس مکان میں ہے اُس مکان کو برابر شناخت کرتا ہے۔حتیّٰ کہ لوگوں کی آواز بھی سنتا ہے اور کل مکان کو بچشم خود دیکھتا ہے۔صرف کسی قدر بجذبۂ غیبی، غیبت حس ہوتی ہے اور جو انسان خواب کی حالت میں اپنے رؤیا میں اپنے تئیں بیدار معلوم کرتا ہے۔یہ علم بذریعہ حواس نہیں بلکہ اس علم کا منشاء فقط روح ہے۔دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ فناء اتم اعنی غایت المعراج و نہایت الوصال میں علم حق رہتا ہے یا نہیں؟ اوّل سمجھنا چاہئے کہ فنائِ اتم عین وصال کا نام نہیں بلکہ امارات اور آثار وصال میں سے ہے کیونکہ فنائِ اتم مراد اُس حالت سے ہے کہ طالبِ حق خلق اور ارادت اور نفس سے بکلّی باہر ہو جاوے اور فعل اور ارادت الٰہی میں بکلّی کھویا جاوے۔یہاں تک کہ اُسی کے ساتھ دیکھتا ہو اور اُسی کے ساتھ سنتا ہو۔اور اُسی کے ساتھ پکڑتا ہو اور اسی کے ساتھ چھوڑتا ہو۔پس یہ تمام آثار وصال کے ہیں نہ عین وصال۔اور عین وصال ایک بیچون اور بیچگون نور ہے کہ جس کو اہلِ وصال شناخت کرتے ہیں مگر بیان نہیں کر سکتے۔خلاصہ کلام یہ کہ جب طالبِ کمال وصال کا خدا کے لئے اپنے تمام وجود سے الگ ہو جاتا ہے اور کوئی حرکت اور سکون اس کا اپنے لئے نہیں رہتا بلکہ سب کچھ خدا کے لئے ہو جاتا ہے تو اس حالت میں اس کو ایک روحانی موت پیش آتی ہے جو بقاء کو مستلزم ہے۔پس اس حالت میں گویا وہ بعد موت کے زندہ کیا جاتا ہے اور غیر اللہ کا وجود اُس کی آنکھ میں