مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 517

مکتوب نمبر۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مشفقی مکرمی میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔آپ کی خواب کے آثار یوں ہی نظر آتے ہیں کہ انشاء اللہ رؤیا صالحہ و واقعہ صحیحہ ہوگا۔مگر اس بات کے لئے کہ مضمون خواب حیز قوت سے حدِّفعل میں آوے۔بہت سی محنتیں درکار ہیں۔خواب کے واقعات اُس پانی سے مشابہ ہیں کہ جو ہزاروں من مٹی کے نیچے زمین کی تہ تک میں واقعہ ہے۔جس کے وجود میں تو کچھ شک نہیں لیکن بہت سی جان کنی اور محنت چاہئے تا وہ مٹی پانی کے اوپر سے بکُلّی دور ہو جائے اور نیچے سے پانی شیریں اور مصفّا نکل آوے۔ہمت مَرداں مددِ خدا۔صدق اور وفا سے خدا کو طلب کرنا موجب فتحیابی ہے۔ ۱؎ گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود ولیک بخونِ جگر شود گرچہ وصالش نہ بکوشش دہند ہر قدر اے دل کہ توانی بکوش آپ کی ملاقات کے لئے میں بھی چاہتا ہوں مگر وقت مناسب کا منتظر ہوں۔بیوقت حج بھی فائدہ نہیں کرتا۔اکثر حاجی جو بڑی خوشی سے حج کرنے کے لئے جاتے ہیں اور پھر دل سخت ہو کر آتے ہیں۔اُس کا یہی باعث ہے کہ انہوں نے بیوقت بیت اللہ کی زیارت کی اور بجز ایک کوٹھہ کے اور کچھ نہ دیکھا اور اکثر مجاورین کو صدق اور صلاح پر نہ پایا۔دل سخت ہو گیا۔علیٰ ھٰذا القیاس۔ملاقات جسمانی میں بھی ایک قسم کے ابتلاء پیش آ جاتے ہیں۔اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ۔آپ کے سوالات کا جواب جو اس وقت میرے خیال میں آتا ہے مختصر طور پر عرض کیا جاتا ہے۔آپ نے پہلے یہ سوال کیا ہے کہ پورا پورا علم جیسا بیداری میں ہوتا ہے۔خواب میں کیوں نہیں ہوتا اور خواب کا دیکھنے والا اپنی خواب کو خواب کیوں نہیں سمجھتا۔سو آپ پر واضح ہو کہ خواب اُس حالت کا نام ہے کہ جب بباعث غلبۂ رطوبتِ مزاجی ۱؎ العنکبوت: ۷۰