مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 514 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 514

مکتوب نمبر۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ و نظر اللّٰہ سِرّحِمَایتِہٖ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آںمخدوم کی سعی و کوششوں سے اس عاجز کو بہت مدد ملی ہے۔یہ خداوند کریم کی عنایات میں سے ہے کہ اُس نے اپنے مخلص بندوں کو اس طرف ایمانی جوش بخشا ہے۔سو چونکہ عمل وہی معتبر ہے جس کا خاتمہ بالخیر ہو اور صدق اور وفاداری سے انجام پذیر ہو اور اس پُر فتنہ زمانہ میں اخیر تک صدق اور وفا کو پہنچانا اور بدباطن لوگوں کے وساوس سے متاثر نہ ہونا سخت مشکل ہے۔اس لئے خداوند کریم سے التجا ہے کہ وہ اس عاجز کے دوستوں کو جو ابھی تین چار سے زیادہ نہیں۔آپ سکینت اور تسلّی بخشے۔زمانہ نہایت پُرآشوب ہے اور فریبوں اور مکاریوں کی افراط نے بدظنیوں اور بدگمانیوں کو افراط تک پہنچا دیا ہے۔ایسے زمانہ میں صداقت کی روشنی ایک نئی بات ہے اور اُس پر وہ ہی قائم رہ سکتے ہیں جن کے دلوں کو خداوند کریم آپ مضبوط کرے۔اور چونکہ خداوند کریم کی بشارتوں میں تبدیلی نہیں اس لئے امید ہے کہ وہ اس ظلمت میں سے بہت سے نورانی دل پیدا کرکے دکھلا دے گا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔آں مخدوم کی تحریرات کے پڑھنے سے بہت کچھ حال صداقت و نجابت آں مخدوم ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرتبہ بنظر کشفی بھی کچھ ظاہر ہوا تھا۔شاید کسی زمانہ میں خداوند کریم اس سے زیادہ اور کچھ ظاہر کرے۔وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ وَرَحِمَہُ اللّٰہُ وَاِیَّاکُمْ وَھُوَ مَوْلٰـنَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔۱۷؍ فروری ۱۸۸۳ء مطابق ۸؍ ربیع الثانی ۱۳۰۰؁ھ