مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 513 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 513

جاہلوں کی طرح شک میں پڑے۔سو اگراس عاجز کی فریادیں ربُّ العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جو نور محمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الٰہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلا ویں۔اس عاجز کے صادق دوستوں کی تعداد ابھی تین چار سے زیادہ نہیں جن میں سے ایک آپ ہیں اور باقی لوگ لاپروا اور غافل ہیں بلکہ اکثروں کے حالات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تیرہ باطنی کے باعث سے اس کارخانہ کو کسی مکر اور فریب پر مبنی سمجھتے ہیں اور اس کا مقصود اصلی دنیا ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ خود جِیْفَہ دُنیا میں گرفتار ہیں۔اس لئے اپنے حال پر قیاس کر لیتے ہیں۔سو اُن کی روگردانی بھی خداوند کریم کی حکمت سے باہر نہیں۔اس میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں جو پیچھے سے ظاہر ہوں گی۔اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔مگر اپنے دوستوں کی نسبت اس عاجز کی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے صدق کا اجر بخشے اور اُن کو اپنی استقامت میں بہت مضبوط کرے چونکہ ہر طرف ایک زہرناک ہوا چل رہی ہے اس لئے صادقوں کو کسی قدر غم اُٹھانا پڑے گا اور اُس غم میں اُن کے لئے بہت اجر ہیں۔(۹؍ فروری ۱۸۸۳ء مطابق ۳۰؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۰ھ) ٭…٭…٭